بھارت کی ریاست سکم کے مغربی علاقے میں واقع رِمبی گاؤں میں شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 32 مکانات، 4 سرکاری کوارٹرز اور لکڑی و نیم پختہ تعمیرات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے گاؤں کو ’ناقابلِ رہائش‘ قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ پہاڑی ڈھلوانیں مسلسل کھسکنے کے باعث مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: ہمالیائی قصبے میں سیلاب کی تباہی، 70 افراد کی ہلاکت کا خدشہ
حکام کے مطابق سنگلیتام کی پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی اور ملبہ مسلسل نیچے آنے کا سلسلہ اگست میں شروع ہوا۔ 13 اگست کو صرف 2 مکانات متاثر ہوئے تھے، تاہم اگلے روز شدید بارش کے بعد متاثرہ مکانات کی تعداد بڑھ کر 30 ہوگئی۔ اب مِٹ کھولا کے قریب واقع وہ مکانات بھی سیلابی پانی، کیچڑ اور ملبے کی زد میں آ رہے ہیں جنہیں پہلے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔

سکم کے ڈیزاسٹر ریلیف کمشنر رِنزنگ چیوانگ نے 25 ستمبر کو متاثرہ گاؤں کا دورہ کیا۔ ان کے مطابق سنگلیتام سے بار بار ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث رِمبی اب رہائش کے قابل نہیں رہا، جبکہ متاثرہ 107 افراد کو گرام پرَسان کَینڈرا میں قائم امدادی کیمپ منتقل کیا گیا ہے۔ سنگلیتام کے مزید 9 مکانات بھی خالی کرا لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کے بعد مختلف محکموں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم گاؤں کا ارضیاتی جائزہ لے کر لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
سکم کے وزیراعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی اور ہنگامی اقدامات کے لیے متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین میں سیلاب کے باعث تقریباً 900 سانپ فرار، سرچ آپریشن جاری
مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کو ایک لاکھ 30 ہزار بھارتی روپے معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ زمین سے محروم ہونے والے خاندانوں کو سکم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت زمین اور گھر فراہم کیا جائے گا۔ جن خاندانوں کے پاس زمین برقرار ہے، انہیں نیا گھر تعمیر کرنے کے لیے مالی معاونت دی جائے گی۔














