عمان کے محفوظ ساحلی علاقے راس الجنز میں انڈے دینے والی سمندری کچھوے کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یوکرینی فٹنس انفلوئنسر وادیم اولینک کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 32 سالہ وادیم اولینک کو 28 ستمبر کو راس الجنز کے محفوظ ساحل پر ایک سمندری کچھوے کے خول پر بیٹھنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
ویڈیو میں انفلوئنسر کچھوے کے قریب جاتے ہیں، جو وہاں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم اولینک اس کے خول پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں ہنستے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
اسی دوران اولینک ایک نومولود کچھوے کو ہاتھ میں پکڑے نظر آئے، جو ان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اولینک کی ساتھی اولینا کراوچینکو بھی اسی کچھوے کے خول پر بیٹھی نظر آئیں۔
واقعے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اطالوی تحفظِ جنگلی حیات کے منصوبے’بایولوجیکامنتے‘نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سمندری کچھوے جنگلی جانور ہیں اور انہیں چھونا یا تصاویر کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
تنظیم کے مطابق اس نے واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو بھی دے دی ہے۔ تنظیم نے اسے جنگلی حیات کے استحصال اور جانور کے ساتھ بدسلوکی قرار دیا۔
واقعے پر ردعمل سامنے آنے کے بعد وادیم اولینک نے انسٹاگرام پر معذرت بھی کی۔ انہوں نے عمان کی انوائرنمنٹ اتھارٹی اور سبز سمندری کچھووں کے تحفظ سے وابستہ ایک تنظیم کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے عمل پر افسوس کا اظہار کیا۔
راس الجنز عمان میں سبز سمندری کچھووں کے انڈے دینے کے حوالے سے محفوظ مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں کچھووں کے تحفظ کے لیے انسانی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔













