فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 13 فوجیوں کو قتل کرنے والے سابق میجر نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔ مجوزہ پھانسی 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فوجی اڈے پر ہونی ہے، تاہم قانونی کارروائی مکمل نہ ہونے کے باعث اس پر عمل درآمد غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کی جائیں گی۔ اگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے امریکا میں تقریباً ایک صدی کے دوران پہلی عوامی سزائے موت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ماہرینِ قانون نے اس فیصلے کو جدید دور میں غیر معمولی اور قانونی پیچیدگیوں کا حامل قرار دیا ہے۔

پیٹ ہیگسیتھ نے قدامت پسند امریکی ٹی وی چینل ریئل امریکا وائس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حسن کو فوجی اہلکاروں پر مشتمل فائرنگ اسکواڈ سزائے موت دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے کہ ایسے جرائم کے سنگین نتائج کیا ہوتے ہیں۔

پینٹاگون نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وزیر دفاع کی سفارش پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سزائے موت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی فوج میں چھ دہائیوں سے زائد عرصے بعد یہ پہلی سزائے موت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے امریکی ملٹری بیس پر حملہ کرنے والے نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم

نضال حسن امریکی فوج میں ماہرِ نفسیات تھا اور اس نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ نومبر 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ اسی نے کی تھی، جس میں 13 غیر مسلح فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ واقعہ ایک طبی عمارت میں پیش آیا جہاں تعیناتی کے لیے روانہ ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین لگوانے کے منتظر تھے۔

حسن نے 2013 میں فوجی عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کا خیال تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا تحفظ کر رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حسن کے مقدمے میں اپیل کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور وہ وفاقی عدالت سے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سزائے موت پر عمل درآمد رک سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدر ٹرمپ خطرناک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ بحال کریں گے، امریکی محکمہ انصاف

ییل لا اسکول کے مہمان لیکچرر یوجین فیڈل نے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا، جبکہ دیگر ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ براہِ راست نشریات کس پلیٹ فارم پر دکھائی جائیں گی، کیونکہ میٹا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک سمیت بڑے سماجی ذرائع ابلاغ پر سزائے موت اور موت کے مناظر دکھانے پر پابندیاں عائد ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp