معروف پشتو ادیب، محقق اور صوفی دانشور سید طاہر بخاری سپرد خاک

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف پشتو افسانہ نگار، دانشور اور شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے روحانی جانشین سید طاہر بخاری باچا طویل علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

ان کی نماز جنازہ آبائی گاؤں میں ادا کی گئی، جس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں ادیبوں، دانشوروں، روحانی عقیدت مندوں، مداحوں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سید طاہر بخاری باچا نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جو روحانی اور ادبی روایات کے حوالے سے معروف تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 8 عشرے پشتو ادب، صوفی فکر، ثقافت اور علاقائی روایات کے فروغ کے لیے وقف کیے۔

یہ بھی پڑھیں: حسن منظر رخصت، اردو فکشن کا ایک عہد تمام ہوا

وہ معروف پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری المعروف حمزہ بابا کے قریبی ساتھی اور نامزد روحانی جانشین تھے۔ حمزہ بابا کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کے باعث انہوں نے ان کے صوفیانہ افکار، انسان دوستی اور روحانی تعلیمات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سید طاہر بخاری باچا ایک ہمہ جہت ادیب تھے، ان کا ادبی سفر افسانہ نگاری، نثر اور تنقیدی مضامین تک پھیلا ہوا تھا۔

ان کی تحریروں میں پشتون معاشرے کی مقامی ثقافت، روایات، مشکلات اور مزاحمت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ فکر اور روحانی گہرائی نمایاں نظر آتی تھی۔

مزید پڑھیں: معروف شاعر سلیم کوثر 15 برس بعد مداحوں کے درمیان، کلام پر ہر آنکھ اشکبار

انہوں نے جدید پشتو غزل اور کلاسیکی صوفی فکر کے فلسفیانہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی اہم کتابیں تحریر اور مرتب بھی کیں۔

طویل ادبی زندگی کے دوران وہ نوجوان ادیبوں، محققین اور طلبہ کے لیے ایک شفیق استاد اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔

پشاور، لنڈی کوتل اور قبائلی اضلاع میں منعقد ہونے والے ادبی اجتماعات، علمی سیمینارز اور مشاعروں میں ان کی شرکت معمول کا حصہ تھی۔

مزید پڑھیں: مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

وہ پشتو ادب کے تحفظ، مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل آواز اٹھاتے رہے۔

ادبی شخصیات نے ان کی وفات کو پشتو ادب اور صوفی ورثے کے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔

سید طاہر بخاری باچا اپنے پیچھے ادبی تصانیف، بڑی تعداد میں عقیدت مند اور شاگرد، اور خیبر پختونخوا کے ثقافتی منظرنامے پر ایک گہرا نقش چھوڑ گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی