ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ڈیزل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی مشکلات کے درمیان یورپی ممالک نے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کا ایک بڑا حصہ جاری کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ یورپ نے اپنے بڑے ڈیزل ذخائر میں سے بھاری مقدار جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس عمل کا فوری آغاز ہوگا۔
بعد ازاں انہوں نے یورپی ممالک کے اس اقدام کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی کا منصوبہ زیرِغور نہیں رہے گا۔
Trump said he won’t ban US diesel exports, after Group of Seven nations and their partners agreed to release some of their emergency fuel stockpiles in a bid to bring down soaring prices https://t.co/E4vwszz5u8
— Bloomberg (@business) October 2, 2026
ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی تجویز پر غور کیا، جس کے تحت یورپی ممالک تقریباً 5 کروڑ بیرل ڈیزل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کریں گے، جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک سے بھی تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یورپی منصوبے کے تحت ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ تقریباً 20 روز کے دوران مارکیٹ میں لایا جائے گا، اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قلت کم کرنا اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے میں مدد دینا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا عالمی کاربن اخراج میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بن گیا
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی، جس میں توانائی کی عالمی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فرانس اس وقت جی7 کی صدارت کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سمیت بڑے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لائیں، ورنہ امریکا یورپ کو ڈیزل کی برآمدات محدود یا بند کرنے پر غور کرسکتا ہے، امریکی مطالبے میں 20 روز کے اندر تقریباً 10 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کرنے کی بات کی گئی تھی۔
🚨 JUST IN: PRESIDENT TRUMP DEFIED THE “EXPERTS” AGAIN.
“I'm pleased to report that we have reached an agreement for Europe to release massive amounts of DIESEL FUEL from the heavily stocked reserves…The price of diesel is already coming down." 👏🏻👏🏻
Dealmaker in chief!
There… pic.twitter.com/tRMeH8piDJ
— John f Kennedy Jr (@Real_Jfkennedjr) October 3, 2026
ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے سپلائی میں غیر یقینی صورتحال، روس کی ڈیزل برآمدات میں کمی اور یوکرین کے حملوں سے روسی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
چین نے بھی اپنے ملکی ذخائر مضبوط بنانے کے لیے ایندھن کی برآمدات محدود کردی ہیں۔
مزید پڑھیں: چین کی ایندھن برآمدات پر پابندی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
یورپ کی جانب سے تجویز کردہ 5 کروڑ بیرل ڈیزل کا اجرا یورپی یونین کے مجموعی ہنگامی ڈیزل اور گیس آئل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے، جبکہ یہ مقدار خطے کی سالانہ کھپت کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔
امریکی اور یورپی حکام کے اقدامات کے بعد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یورپی ذخائر کا اجرا عالمی سپلائی کے دباؤ کو کم کرسکتا ہے، تاہم ایران جنگ اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل کے باعث عالمی ایندھن مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔













