یورپ کا ڈیزل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ، ٹرمپ کا برآمدی پابندی سے دستبرداری کا اعلان

ہفتہ 3 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ڈیزل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی مشکلات کے درمیان یورپی ممالک نے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کا ایک بڑا حصہ جاری کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ یورپ نے اپنے بڑے ڈیزل ذخائر میں سے بھاری مقدار جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس عمل کا فوری آغاز ہوگا۔

بعد ازاں انہوں نے یورپی ممالک کے اس اقدام کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی کا منصوبہ زیرِغور نہیں رہے گا۔

ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی حکومتوں نے فرانس کی تجویز پر غور کیا، جس کے تحت یورپی ممالک تقریباً 5 کروڑ بیرل ڈیزل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کریں گے، جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک سے بھی تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یورپی منصوبے کے تحت ڈیزل کے ذخائر کا ایک حصہ تقریباً 20 روز کے دوران مارکیٹ میں لایا جائے گا، اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قلت کم کرنا اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے میں مدد دینا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا عالمی کاربن اخراج میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بن گیا

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کو جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی، جس میں توانائی کی عالمی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فرانس اس وقت جی7 کی صدارت کررہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سمیت بڑے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لائیں، ورنہ امریکا یورپ کو ڈیزل کی برآمدات محدود یا بند کرنے پر غور کرسکتا ہے، امریکی مطالبے میں 20 روز کے اندر تقریباً 10 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کرنے کی بات کی گئی تھی۔

ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے سپلائی میں غیر یقینی صورتحال، روس کی ڈیزل برآمدات میں کمی اور یوکرین کے حملوں سے روسی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔

چین نے بھی اپنے ملکی ذخائر مضبوط بنانے کے لیے ایندھن کی برآمدات محدود کردی ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کی ایندھن برآمدات پر پابندی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

یورپ کی جانب سے تجویز کردہ 5 کروڑ بیرل ڈیزل کا اجرا یورپی یونین کے مجموعی ہنگامی ڈیزل اور گیس آئل ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے، جبکہ یہ مقدار خطے کی سالانہ کھپت کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔

امریکی اور یورپی حکام کے اقدامات کے بعد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق یورپی ذخائر کا اجرا عالمی سپلائی کے دباؤ کو کم کرسکتا ہے، تاہم ایران جنگ اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل کے باعث عالمی ایندھن مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp