سکھر شہر سے متصل علاقہ بچل شاہ، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کا حلقہ انتخاب ہے۔ بد قسمتی سے اس علاقے میں تاحال بنیادی ضروریات کی فراہمی نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے عوام خاصے پریشان ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جس طرح بلدیاتی نظام کو خود مختار کیا گیا تھا، اب اسی طرح کا کوئی نظام موجود نہیں، تاکہ عوام اپنے مسائل کو بہتر اور جلد حل کروا سکیں۔
مزید پڑھیں:سکھر صنعتی زون تباہ حال: کاروباری افراد کا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے کی سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں، جبکہ بجلی کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ اگر بجلی آتی بھی ہے تو اس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ معلوم نہیں ہوتا کہ بجلی کب آئے گی اور کب چلی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ووٹ لینے والے نمائندے صرف انتخابات سے پہلے ہی علاقے کا رخ کرتے ہیں، اس کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اگر وہ اپنے مسائل لے کر سکھر جاتے ہیں تو وہاں بھی انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملتا۔ متعلقہ افسر کراچی میں موجود ہوتے ہیں، جہاں تک عام شہریوں کے لیے جانا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی سطح پر کوئی افسر، میئر یا ناظم موجود ہو تو عوام کو اپنے مسائل بیان کرنے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ فی الحال انہیں اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ایسا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
علاقہ مکینوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ 6 سے 8 گھنٹے تک بجلی کی بندش کے باعث بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور علاقے کو بجلی کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جائے۔
مزید پڑھیں:سکھر تا حیدرآباد ایم 6 موٹروے منصوبہ پھر تاخیر کا شکار، حکومتی دعوے برقرار
ان کے مطابق بجلی کی طویل بندش سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ بچے صبح سے اسکول جاتے ہیں، لیکن بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث انہیں پڑھائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور علاقے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔












