روس علاقے کے سائبیریا میں ریچھوں کے انسانوں پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، صرف ستمبر کے دوران ملک بھر میں ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔
سی این این کے مطابق روس میں عام طور پر سالانہ 20 سے 30 افراد ریچھوں کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں، تاہم رواں سال ریچھ 40 سے زائد روسی علاقوں میں آبادی والے مقامات میں داخل ہوئے۔ وسطی سائبیریا کا کراسنویارسک خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ستمبر میں 7 افراد جان سے گئے۔
مزید پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملے، حکومت نے فوج تعینات کردی
کراسنویارسک میں گزشتہ ہفتے 51 سالہ خاتون گھر سے باہر نکلتے ہی ریچھ کے حملے میں ہلاک ہوگئیں، جبکہ اس سے 2 روز قبل جنگلاتی علاقے میں ٹرک پارکنگ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ کو ریچھ نے ہلاک کردیا تھا۔ رواں ماہ 2 معمر خواتین بھی مشروم جمع کرنے کے لیے جنگل جانے کے بعد لاپتا ہوگئی تھیں، جن کی لاشیں ریچھ کے حملے سے مطابقت رکھنے والے زخموں کے ساتھ ملیں۔
سائبیریا کے دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے رپورٹ ہوئے۔ تووا میں روسی این ایچ ایل کھلاڑی آندرے کزمینکو کے والد ماہی گیری کے دوران ریچھ کے حملے میں شدید زخمی ہوئے اور بعدازاں اسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ اگست میں جنوبی سائبیریا کے سیاحتی علاقے آلٹائی میں ریچھ نے ایک خیمہ پھاڑ کر 29 سالہ خاتون کو جنگل میں گھسیٹ لیا اور ہلاک کردیا۔
In Russia, bears calmly roaming the streets is no longer a joke – it is the reality Siberians now face.
The animals have started attacking people almost daily; more than 20 people have already died at their paws, with predators mauling seven people in the Krasnoyarsk Territory alone.
This is happening because the bears literally have nowhere to live and nothing to eat. Wildfires destroyed part of the forest, but even more was cut down. Since the beginning of 2026 alone, Russia has sold $2 billion worth of timber to China. That represents hundreds of thousands of hectares of deforested land.
Instead of bringing order to its own country, Russia continues to destroy its neighbor’s.
— Anton Gerashchenko (@Gerashchenko_en) October 4, 2026
ماہرین کے مطابق ریچھوں کے آبادی والے علاقوں کا رخ کرنے کی بڑی وجہ خوراک کی کمی ہے۔ رواں سال خزاں میں چلغوزوں، بیریوں اور دیگر قدرتی خوراک کی پیداوار کم رہی، جبکہ جنگلات میں لگنے والی وسیع آگ نے بعض ریچھوں کا قدرتی مسکن بھی متاثر کیا۔ سردیوں کی ہائبرنیشن سے قبل ریچھ جسم میں چربی ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ خوراک تلاش کرتے ہیں، جس کے باعث خوراک کم ہونے پر وہ انسانی آبادیوں کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
ماہرین نے کھلے مقامات پر خوراک کا کچرا پھینکنے اور جنگلی حیات کے مسکن میں انسانی سرگرمیوں میں اضافے کو بھی ریچھوں اور انسانوں کے درمیان تصادم کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔ روسی سائنس اکیڈمی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ریچھوں کو مارنا مسئلے کا مستقل حل نہیں، کیونکہ کھانے کے ذرائع محفوظ نہ کیے گئے تو دوسرے ریچھ بھی انہی علاقوں کا رخ کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کے حملوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ‘مانسٹر وولف’ روبوٹ کی مانگ میں تیزی
ریچھوں کے بڑھتے حملوں کے باعث سائبیریا اور روس کے مشرقی علاقوں کے کم از کم 10 خطوں میں شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیے گئے ہیں۔ آلٹائی اور ارکتسک کے بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ کراسنویارسک کے ایک قومی پارک اور مقبول ہائیکنگ روٹ کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب روسی حکومت نے ریچھوں کی بڑھتی تعداد کو قابو کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رواں سال موسم بہار سے اب تک ملک بھر میں ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ روس میں بھورے ریچھوں کی تعداد گزشتہ 3 دہائیوں میں دگنی سے زیادہ ہو کر قریباً 3 لاکھ 8 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔














