سائبیریا میں ریچھوں کے حملے کیوں بڑھ گئے؟ ستمبر میں 16 افراد ہلاک

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس علاقے کے سائبیریا میں ریچھوں کے انسانوں پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، صرف ستمبر کے دوران ملک بھر میں ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔

سی این این کے مطابق روس میں عام طور پر سالانہ 20 سے 30 افراد ریچھوں کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں، تاہم رواں سال ریچھ 40 سے زائد روسی علاقوں میں آبادی والے مقامات میں داخل ہوئے۔ وسطی سائبیریا کا کراسنویارسک خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ستمبر میں 7 افراد جان سے گئے۔

مزید پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملے، حکومت نے فوج تعینات کردی

کراسنویارسک میں گزشتہ ہفتے 51 سالہ خاتون گھر سے باہر نکلتے ہی ریچھ کے حملے میں ہلاک ہوگئیں، جبکہ اس سے 2 روز قبل جنگلاتی علاقے میں ٹرک پارکنگ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ کو ریچھ نے ہلاک کردیا تھا۔ رواں ماہ 2 معمر خواتین بھی مشروم جمع کرنے کے لیے جنگل جانے کے بعد لاپتا ہوگئی تھیں، جن کی لاشیں ریچھ کے حملے سے مطابقت رکھنے والے زخموں کے ساتھ ملیں۔

سائبیریا کے دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے رپورٹ ہوئے۔ تووا میں روسی این ایچ ایل کھلاڑی آندرے کزمینکو کے والد ماہی گیری کے دوران ریچھ کے حملے میں شدید زخمی ہوئے اور بعدازاں اسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ اگست میں جنوبی سائبیریا کے سیاحتی علاقے آلٹائی میں ریچھ نے ایک خیمہ پھاڑ کر 29 سالہ خاتون کو جنگل میں گھسیٹ لیا اور ہلاک کردیا۔

ماہرین کے مطابق ریچھوں کے آبادی والے علاقوں کا رخ کرنے کی بڑی وجہ خوراک کی کمی ہے۔ رواں سال خزاں میں چلغوزوں، بیریوں اور دیگر قدرتی خوراک کی پیداوار کم رہی، جبکہ جنگلات میں لگنے والی وسیع آگ نے بعض ریچھوں کا قدرتی مسکن بھی متاثر کیا۔ سردیوں کی ہائبرنیشن سے قبل ریچھ جسم میں چربی ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ خوراک تلاش کرتے ہیں، جس کے باعث خوراک کم ہونے پر وہ انسانی آبادیوں کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

ماہرین نے کھلے مقامات پر خوراک کا کچرا پھینکنے اور جنگلی حیات کے مسکن میں انسانی سرگرمیوں میں اضافے کو بھی ریچھوں اور انسانوں کے درمیان تصادم کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔ روسی سائنس اکیڈمی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ریچھوں کو مارنا مسئلے کا مستقل حل نہیں، کیونکہ کھانے کے ذرائع محفوظ نہ کیے گئے تو دوسرے ریچھ بھی انہی علاقوں کا رخ کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کے حملوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ‘مانسٹر وولف’ روبوٹ کی مانگ میں تیزی

ریچھوں کے بڑھتے حملوں کے باعث سائبیریا اور روس کے مشرقی علاقوں کے کم از کم 10 خطوں میں شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیے گئے ہیں۔ آلٹائی اور ارکتسک کے بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ کراسنویارسک کے ایک قومی پارک اور مقبول ہائیکنگ روٹ کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب روسی حکومت نے ریچھوں کی بڑھتی تعداد کو قابو کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رواں سال موسم بہار سے اب تک ملک بھر میں ریچھوں کے حملوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ روس میں بھورے ریچھوں کی تعداد گزشتہ 3 دہائیوں میں دگنی سے زیادہ ہو کر قریباً 3 لاکھ 8 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp