ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کی سابق خصوصی سفیر انجلینا جولی نے غزہ میں جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی ’پہلے اور بعد‘ کی سیٹلائٹ تصاویر شیئر کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
انجلینا جولی نے انسٹاگرام پر غزہ کے مختلف علاقوں کی جنگ سے قبل اور جنگ کے بعد کی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ اب گوگل ارتھ کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے کہ غزہ کے ساتھ کیا ہوا۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے کہا کہ غزہ کے پورے کے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں جبکہ گھروں، اسکولوں، جامعات، اسپتالوں، سڑکوں، پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
انجلینا جولی نے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 16 جون 2026 تک غزہ کی 82 فیصد عمارتیں متاثر ہوچکی تھیں جن میں تقریباً دو تہائی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انجلینا جولی کی بیرونِ ملک منتقلی کیوں کھٹائی میں پڑ گئی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ غزہ کی 19 لاکھ 80 ہزار افراد یعنی 94 فیصد آبادی کو پناہ گاہ اور بنیادی ضروری اشیا کی امداد درکار ہے جبکہ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
انجلینا جولی نے امدادی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کے لیے درکار مواد کی فراہمی میں رکاوٹوں اور تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد شہریوں تک مطلوبہ پیمانے پر پہنچنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی بیٹی کا بڑا فیصلہ، والد کا نام ہٹا کر توجہ سمیٹ لی
انہوں نے زور دیا کہ غزہ کے شہریوں کو موسم سرما سے قبل پناہ گاہیں فراہم کی جائیں، اسپتالوں تک طبی سامان پہنچایا جائے اور انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے۔
انجلینا جولی کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر غزہ میں ہونے والی تباہی کی شدت تو دکھاتی ہیں تاہم یہ تصاویر ان خاندانوں کے دکھ اور نقصان کو بیان نہیں کرسکتیں جن کے پیارے جنگ میں جاں بحق ہوئے، نہ ہی ان لوگوں کی مشکلات کی مکمل عکاسی کرتی ہیں جو اس تباہی کے بعد زندہ بچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات پیدا کرنا ضروری ہیں جن میں فلسطینی شہری اپنے گھر، اسکول، اسپتال اور اپنی برادریاں دوبارہ تعمیر کرسکیں۔ انجلینا جولی نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ تباہی سب کے سامنے ہے، ضروریات معلوم ہیں، اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی رہنما غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شریک مجرم ہیں، انجلینا جولی
واضح رہے کہ انجلینا جولی نے اس سے قبل 3 جنوری 2026 کو مصر کا دورہ کیا تھا جہاں وہ رفح کراسنگ بھی گئی تھیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے مصری ہلال احمر اور دیگر مقامی امدادی تنظیموں کے کارکنوں سے ملاقات کی اور غزہ میں امداد پہنچانے کی کوششوں پر بات چیت کی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسے گودام بھی دیکھے جہاں طبی سامان سمیت امدادی اشیا موجود تھیں تاہم انہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔انجلینا جولی نے اس وقت جنگ بندی برقرار رکھنے اور غزہ تک امداد، ایندھن اور انتہائی ضروری طبی سامان کی محفوظ، مسلسل اور بڑے پیمانے پر رسائی یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔
انہوں نے موسم سرما کے لیے ضروری سامان اور طبی آلات فوری طور پر غزہ پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رضاکاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔














