آزاد جموں و کشمیر پولیس کے کوٹلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شرپسند عناصر نے نام نہاد احتجاج کی آڑ میں شہر میں امن و امان خراب کرنے اور معمولات زندگی مفلوج کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کے تحت مختلف اضلاع میں باقاعدہ اجلاس کیے گئے۔
پولیس حکام نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کوٹلی میں ہونے والے اجلاس میں شرپسند عناصر کو اسلحہ، ٹرانسپورٹ اور مقامی سہولت کار فراہم کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے 8 ملزمان سے پستول اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
🚨کوٹلی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کاروائی ریاست مخالف تخریب کاری کی منصوبہ بندی ناکام!
کالعدم ایکشن کمیٹی کے8 افراد گرفتارجس میں ایازصدیق بھی شامل،کارروائی کے دوران جدید اسلحہ، بم اور گرینیڈ برآمد، جبکہ ایاز صدیق کااعترافی بیان بھی سامنے آگیا، pic.twitter.com/s77NcxvkzV— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) October 6, 2026
پولیس کے مطابق ان عناصر نے کالا ڈب کے مقام پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل شدید زخمی ہوا اور راولپنڈی کے اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ کارروائی کے دوران چوکی افسر نعیم بھی زخمی ہوئے۔
حکام کا کہنا تھا کہ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سڑک کھلوائی اور صورتحال پر قابو پالیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران مزید معلومات سامنے آئی ہیں، جن کی بنیاد پر آئندہ کارروائیاں کی جائیں گی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کے اگلے منصوبے کا ہدف کوٹلی شہر تھا، تاہم اس حوالے سے بعض حساس معلومات تفتیش مکمل ہونے تک منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران قانون شکنی کے واقعات، مسلح مورچہ بندی اور تشدد کی شکایات
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد مبینہ طور پر احتجاج کی آڑ میں عوام کی معمول کی زندگی متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام نے واضح کیا کہ امن و امان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔














