’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کی قانونی جنگ میں نیا موڑ، عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان کی مجوزہ فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کے خلاف قانونی جنگ میں نیا موڑ آگیا ہے، دہلی ہائیکورٹ نے فلم کے پروڈیوسر کی درخواست پر سلمان خان سے جواب طلب کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے سلمان خان کو نوٹس جاری کیا۔ فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اداکار کی جانب سے فلم کے خلاف شروع کی گئی حالیہ قانونی کارروائی کو روکا جائے کیونکہ ان کے بقول اسی معاملے سے متعلق ایک درخواست پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاپارازی ڈر گئے ہیں‘، سلمان خان کا ڈانٹ کے بعد فوٹوگرافرز کے لیے پوز، صارفین کے دلچسپ تبصرے

سلمان خان نے فلم کی ریلیز اور اس کے تشہیری مواد کی اشاعت و ترسیل روکنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ فلم کو 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے منسلک کیا گیا ہے جس میں سلمان خان کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

پروڈیوسر امیت جانی کا مؤقف ہے کہ سلمان خان دو الگ قانونی کارروائیوں میں تقریباً ایک جیسی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں فلم اور اس کے پروموشنل مواد پر پابندی لگانے کی درخواست بھی شامل ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے سے زیرِ سماعت مقدمے کا فیصلہ ہونے تک بعد میں دائر کی گئی کارروائی کو روک دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کے شرٹ لیس ہونے پر سابق ’بگ باس‘ کنٹسٹنٹ کا سخت ردعمل

سلمان خان اور فلم سازوں کے درمیان تنازع رواں برس جولائی میں اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا تھا جب اداکار کے اعتراض پر دہلی ہائیکورٹ نے فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اس وقت قرار دیا تھا کہ فلم کے بنانے والے سلمان خان کے نام، انداز، حرکات و سکنات یا ان سے منسلک نمایاں خصوصیات کو بغیر اجازت تجارتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے جبکہ ایسا مواد بھی شائع نہیں کیا جاسکتا جو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کے باڈی گارڈ کے بیٹے کی قسمت جاگ گئی، فلم میں چانس مل گیا

دوسری جانب فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ’کالا ہرن‘ سلمان خان کی بایوپک نہیں بلکہ یہ عوامی سطح پر زیرِ بحث رہنے والے واقعات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ شخصیت کے حقوق کو بنیاد بنا کر کالے ہرن کے تنازع سے متعلق عوامی واقعات کو فلم میں دکھانے سے نہیں روکا جاسکتا۔

سلمان خان نے فلم سازوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کالے ہرن کے معاملے کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرکے تشہیر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان اپنے بھتیجے کی ڈیبیو فلم میں خصوصی کردار ادا کریں گے

عدالت میں فلم سازوں کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق فلم فی الحال ریلیز کے لیے تیار نہیں اور اسے سنسر بورڈ سے بھی سرٹیفیکیشن نہیں ملا جبکہ فلم کا ٹریلر بھی تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

عدالت کے تازہ حکم کے بعد سلمان خان کے وکیل پروڈیوسر کی درخواست پر اپنا جواب جمع کرائیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 16 دسمبر کو ہوگی۔

تاہم عدالت کے حالیہ حکم میں فلم ’کالا ہرن‘ کی حتمی ریلیز کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یوں سلمان خان اور فلم کے پروڈیوسرز کے درمیان جاری قانونی تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp