آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے، مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور بلند ترین سرکاری قرضوں سمیت کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ عالمی عوامی قرض جلد مجموعی عالمی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت کو بیک وقت 3 بڑے عوامل کا سامنا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت کا تیزی سے پھیلاؤ، توانائی کی مسلسل بلند ہوتی قیمتیں اور سرکاری قرضوں کی ریکارڈ سطح شامل ہیں۔ ان کے مطابق عالمی عوامی قرض دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب ہے، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں مجموعی قرضوں کا بوجھ خاص طور پر زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف
آئی ایم ایف سربراہ کے مطابق عالمی معیشت پر توانائی کی رسد میں منفی جھٹکے اور مصنوعی ذہانت کی طلب میں مثبت اضافے کے برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر خطرات کے باعث تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو درپیش خطرات کے باعث خلیجی خطے سے قدرتی گیس کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب جارجیوا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہارڈویئر اور دیگر مصنوعات اب عالمی اشیا کی تجارت میں 10 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ممالک مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کریں تو یہ ٹیکنالوجی عالمی اقتصادی شرح نمو میں سالانہ 0.5 فیصد تک اضافی اضافہ کر سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے معاشی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ضروری اقدامات مزید مؤخر کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد مالیاتی استحکام کے منصوبے نافذ کریں۔
یہ بھی پڑھیے آئی ایم ایف کی کڑی شرط، پیٹرول، ڈیزل سستا ہوگا یا نہیں؟ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز نے حقیقت بتا دی
انہوں نے مرکزی بینکوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ محتاط مگر نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی کا رجحان برقرار رکھیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، توانائی کے جھٹکے اور بلند سرکاری قرضے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔














