دنیا میں پہلی بار انسان پر ایسی جین تھراپی آزما لی گئی ہے جس کا مقصد خلیاتی سطح پر بڑھاپے کے اثرات کو جزوی طور پر ریورس کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین اسے طب کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں تاہم ساتھ ہی اس کے ممکنہ خطرات اور طویل مدتی اثرات پر محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
بوسٹن میں قائم بایوفارماسیوٹیکل کمپنی لائف بایوسائنسز نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی تجرباتی جین تھراپی ER-100 کا پہلا انسانی استعمال شروع کر دیا ہے جسے دنیا کا پہلا کلینیکل ٹرائل قرار دیا جا رہا ہے جو جزوی سیلولر ری پروگرامنگ پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی سکون کا راز کن چیزوں میں پوشیدہ؟ اسلام اور سائنس کی روشنی میں جانیے
کمپنی کے مطابق یہ تھراپی سیلولر سطح پر بڑھاپے کے اثرات کو جزوی طور پر ریورس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کا مقصد آنکھوں کی سنگین بیماری گلوکوما اور بعد ازاں نان آرٹیریل انٹیرئیر اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی (NAION) جیسے امراض کا علاج ہے جو آپٹک نرو کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
جدید جین تھراپی کیسے کام کرتی ہے؟
ER-100 ایک ایپی جینیٹک میڈیسن ہے جو ڈی این اے کی ساخت کو تبدیل کیے بغیر اس بات کو متاثر کرتی ہے کہ جسم اپنے جینز کو کس طرح فعال یا غیر فعال کرتا ہے۔ اس تھراپی میں مخصوص جینز کو استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خلیات کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مریضوں کو یہ علاج براہِ راست آنکھ میں انجیکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں اینٹی بایوٹکس کا ایک مخصوص کورس دیا جاتا ہے جو علاج میں شامل تین جینز کو فعال کرنے کے لیے بطور ’آن سوئچ‘ کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 ہزار سال پرانے انسان کا خمیر پھر زندہ، سائنس دانوں نے روٹی بنا ڈالی
اس فیز 1 کلینیکل ٹرائل میں 20 سے کم مریض شامل کیے جائیں گے جنہیں امریکہ کے مختلف شہروں بشمول بوسٹن، نیویارک، لاس اینجلس اور چارلسٹن میں منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد علاج کی حفاظت اور برداشت کو جانچنا ہے۔
یہ تحقیق تقریباً دو دہائی قبل نوبیل انعام یافتہ سائنسدان شِنیہ یامانا کا کی دریافت پر مبنی ہے جنہوں نے ثابت کیا تھا کہ مخصوص جینز کے ذریعے بالغ خلیات کو دوبارہ اسٹیم سیل جیسی حالت میں لایا جا سکتا ہے۔ ان جینز کو ’یامانا کا فیکٹرز‘ کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
تاہم مکمل ری پروگرامنگ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اسی لیے سائنسدانوں نے ’جزوی ری پروگرامنگ ‘ کا طریقہ اپنایا ہے جس میں جینز کو محدود وقت یا محدود مقدار کے لیے فعال کیا جاتا ہے تاکہ خلیات جوان بھی ہوں مگر اپنی اصل شناخت برقرار رکھیں۔
ممکنہ فوائد اور خدشات
ابتدائی تجربات (جانوروں پر) میں یہ اشارہ ملا ہے کہ ER-100 متاثرہ خلیات کی فعالیت بہتر بنا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر بینائی کی بحالی میں مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد سائنسدان کی تحقیق، آنکھوں کے ذریعے ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کی شناخت ممکن
تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ جین ایکسپریشن میں مداخلت کے ممکنہ خطرات موجود ہیں جن میں خلیات کے غیر معمولی بڑھاؤ اور کینسر بننے کا خدشہ شامل ہے۔
اسی وجہ سے یہ تحقیق انتہائی محتاط انداز میں فیز 1 کے تحت صرف محدود مریضوں پر کی جا رہی ہے اور ابتدائی طور پر آنکھ جیسے نسبتاً محفوظ عضو کو منتخب کیا گیا ہے۔
اس تحقیق نے سلیکون ویلی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی خاص دلچسپی پیدا کی ہے۔ کمپنی کے شریک بانی اور ہارورڈ کے محقق ڈیوڈ سنکلیئر اس شعبے میں نمایاں نام ہیں جبکہ عالمی سطح پر اس موضوع پر بحث میں ایلون مسک کی جانب سے بڑھاپے کو ’قابلِ حل مسئلہ‘ قرار دینے جیسے بیانات نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔
Are you referring to ER-100?
— Elon Musk (@elonmusk) January 23, 2026
فی الحال یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج آنے والے مہینوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانی عمر اور بیماریوں کے علاج میں کوئی انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں۔














