ملک میں 75 لاکھ افراد غذائی بحران کا شکار، بلوچستان کے کئی اضلاع بھی شامل، وجوہات کیا ہیں؟

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے 45 اضلاع میں تقریباً 75 لاکھ افراد غذائی بحران یا اس سے بدتر صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جن میں 12 لاکھ 50 ہزار افراد ایمرجنسی جبکہ 63 لاکھ افراد کرائسز کی سطح پر ہیں۔ بلوچستان کے 6 اضلاع سمیت متاثرہ علاقوں میں خوراک کی محدود دستیابی، خشک سالی، مہنگائی اور روزگار کے کم مواقع نے غذائی عدم تحفظ کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ

انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 45 اضلاع میں فیز 3 یا اس سے اوپر غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 75 لاکھ رہی جو تجزیے میں شامل افراد کا 21 فیصد ہے۔ ان میں تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار افراد فیز 4 یعنی ایمرجنسی کی سطح پر جبکہ 63 لاکھ افراد فیز 3 یعنی کرائسز کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

آئی پی سی کے تجزیے میں بلوچستان کے 19، سندھ کے 12 اور خیبرپختونخوا کے 14 دیہی اضلاع شامل کیے گئے ہیں جن کی مجموعی آبادی تقریباً 3 کروڑ 56 لاکھ ہے۔

بلوچستان کے 6 اضلاع میں غذائی عدم تحفظ سنگین

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ژوب، موسیٰ خیل، چاغی، خاران، نوشکی اور واشک ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال سنگین ہے۔

ان علاقوں میں اپنی غذائی پیداوار محدود ہونے، منڈیوں پر زیادہ انحصار، روزگار کے کم مواقع اور دیگر معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کو خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیے: ایل نینو دنیا میں بھوک کا نیا بحران پیدا کر سکتا ہے، 27 کروڑ 40 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کے خطرے میں

آئی پی سی کے مطابق اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران 45 اضلاع میں فیز 3 یا اس سے اوپر غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد کم ہو کر تقریباً 67 لاکھ رہنے کی توقع ہے۔

تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اس کمی کو غذائی صورتحال میں حقیقی بہتری نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ گزشتہ تجزیے میں 68 اضلاع شامل تھے جبکہ موجودہ تجزیہ صرف 45 اضلاع تک محدود ہے۔

سیلاب، خشک سالی اور مہنگائی غذائی بحران کی بڑی وجوہات

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان سمیت متاثرہ علاقوں میں غذائی بحران کی بڑی وجوہات میں سنہ 2025 کے مون سون سیلاب کے باقی ماندہ اثرات، طویل خشک سالی اور خشک موسم، فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار میں کمی، مہنگائی، محدود آمدنی، روزگار کے کم مواقع اور مقامی سطح پر بدامنی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان عوامل نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی خوراک تک رسائی اور اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات

اسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے ملاقات کی جس میں بلوچستان میں غذائی قلت کے خاتمے، غذائی تحفظ، غذائیت کی بہتری اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے جاری منصوبوں میں توسیع سمیت باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عالمی تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے خوراک کی قیمتیں بلند ترین سطح پر، دنیا بھوک کے بحران کی جانب گامزن

اس موقعے پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں غذائی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے تدارک کے لیے حکومت، عالمی اداروں اور متعلقہ شراکت داروں کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان غذائی قلت کے خاتمے اور غذائی تحفظ بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے جبکہ بچوں اور خواتین کو مناسب اور معیاری غذائیت کی فراہمی صحت مند اور توانا معاشرے کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ غذائی قلت کا تعلق انسانی صحت، بچوں کی نشوونما اور مجموعی انسانی ترقی سے ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے طویل المدتی اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے جاری منصوبوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت باہمی تعاون کا دائرہ مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp