خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت آئینی اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا، وفاقی حکومت اور صدر مملکت اگر صوبے میں دہشتگردی روکنے کے لیے ایسا سمجھیں تو یہ اقدام ضرور ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے آئی جی خیبرپختونخوا، چیف سیکریٹری اور دیگر ذمہ داران کو اس لیے بلایا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی ہورہی ہے، روزانہ جنازے اٹھ رہے ہیں اور لوگ شہید ہورہے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ نے سرکس لگایا ہوا ہے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ کے پاس تقریباً 2 ہزار افراد ہیں جو کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صوبے میں دہشتگردی اور وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں، گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ وفاق کرے گا، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اجلاس کے دوران ہی معلوم ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 شہادتیں ہوئی ہیں، جن میں کسٹمز کے 4 اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر الزام عائد کیا کہ یہ بزدل جماعت اور دہشتگردوں کی سہولتکار بن چکی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ دنوں افغانستان کے ایک وزیر نے کہا کہ وہ پشاور پر قبضہ کرلیں گے، جبکہ افغانستان سے روزانہ فرنٹیئر کور اور پولیس پر ڈرون حملے ہوتے ہیں، لیکن ان حملوں کے خلاف صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد بھی نہیں آئی۔ ان کے بقول یہ لوگ دہشتگردوں سے ڈرتے ہیں اور ان کے سہولتکار بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کا کہتی ہے، لیکن ہم کسی ایسے ملک یا جماعت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے جو پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور پاکستان کے آئین و قانون کو نہ مانے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عقل کریں، لیکن ان میں عقل نہیں، اگر کہیں بازار میں ملتی تو لے کر دے دیتے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے اٹک سے ایک قدم آگے بڑ ھ کر تو دکھائیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا نے اپنے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ وہ حاضر ہیں، آج ان کے خلاف پی ٹی آئی عدالت چلی جائے کہ انہوں نے اجلاس کیوں بلایا۔ ان کے مطابق انہوں نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو اس لیے بلایا کیونکہ صوبے میں دہشتگردی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 131 اور 149 پڑھ لیے جائیں کہ ان میں کیا کہا گیا ہے، اگر انہوں نے آئین کی کوئی خلاف ورزی کی ہے تو نتائج کے لیے تیار ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت خیبر گئے ہوئے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ وہاں سے افغانستان کی طرف نہ نکل جائیں تاکہ انہیں صوابی کی طرف نہ آنا پڑے۔ انہوں نے صوابی کو ان کے لیے پل صراط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہاں سے گزر کر دکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر سے آنے والے قافلے کے حوالے سے سہیل آفریدی یقینی بنائیں اور چیکنگ کروائیں کہ قافلے میں اسلحہ، منشیات، نان کسٹمز گاڑیاں اور دہشتگرد موجود نہ ہوں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبر اس لیے گئے ہیں کہ وہاں دہشتگردوں کے سہولتکار بنیں اور انہیں وہاں سے صوابی اور خدانخواستہ اسلام آباد لے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر کہا کہ اگر وفاقی حکومت اور صدر مملکت سمجھیں کہ صوبے میں دہشتگردی روکنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے تو یہ ضرور لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کو بلوچستان میں اپنی حکومت ختم کرکے امن و امان کے قیام کے لیے ایمرجنسی لگانی پڑی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp