وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ 13 سالہ حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ اور سیاست محض نعروں اور سوشل میڈیا ویڈیوز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر سخت تنقیدی وار کیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کو مسلسل 13 سال سے اقتدار حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود خیبر پختونخوا اور وہاں کے عوام کے حقیقی مسائل پر صوبائی قيادت اور وزیراعلیٰ کی کوئی توجہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد رہنماؤں کے پاس اختیارات نہیں تھے، امیر مقام
انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی اور ناخوشگوار واقعات پیش آ رہے ہیں، جس سے عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے ’شہد اور دودھ کی نہریں بہانے‘ کے بلند و بانگ وعدے کیے تھے، لیکن عملی طور پر آج ان کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کے عوام کو آخر کیا ریلیف ملا؟‘
یہ بھی پڑھیے ’سہیل آفریدی جلد جیل میں ہوں گے‘، مذاکرات کے لیے تیار لیکن قیدی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، امیر مقام
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس اپنی 13 سالہ کارکردگی کے طور پر پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اور خیبر پختونخوا کا سب سے بنیادی اور سنگین مسئلہ ابتر گورننس ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی قیادت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف سیاسی نعرے بازی اور ویڈیوز بنانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔













