جاپان: امریکی فوجی پر خاتون کے قتل کا الزام، ٹوکیو میں وزارت خارجہ کے سامنے عوام کا احتجاج

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی صوبے اوکیناوا میں ایک خاتون کے قتل کے الزام میں امریکی میرین کی گرفتاری کے بعد جمعرات کو درجنوں مظاہرین جاپان کی وزارت خارجہ کے سامنے جمع ہو گئے جن میں سے کئی امریکی فوجیوں کے جرائم کی مذمت کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان: امریکی میرین اہلکار کے ہاتھوں خاتون کے قتل کا معاملہ: فوجی اڈے میں کرفیو اور شراب نوشی پر پابندی عائد

یہ کیس برسوں پر محیط واقعات کی تازہ ترین کڑی ہے جس نے تائیوان اور چین کے قریب جزائر پر امریکی فوجیوں کی بڑی موجودگی پر بے چینی کو ہوا دی ہے امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مشرقی ایشیا کی سلامتی کے لیے اہم تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم انا یاگی کے قتل پر عوامی ردعمل سنہ 1995 میں 3 امریکی فوجیوں کے ہاتھوں 12 سالہ اوکیناوا کی بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد ہونے والے بڑے مظاہروں کے مقابلے میں کم رہا ہے۔

پولیس کے مطابق، 20 سالہ لانس کارپورل ڈیون جیکب بیلارڈ پر شبہ ہے کہ اس نے گزشتہ ویک اینڈ اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ یاگی کو قتل کیا اور اس کا بٹوہ اور بیگ لے لیا۔ بیلارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔

جمعرات کے احتجاج کے رہنماؤں نے لاؤڈ اسپیکر پر امریکی فوجیوں کی جانب سے زیادتیوں کے بارے میں بات کی اور حکومت سے جواب دینے کا مطالبہ کیا جبکہ ہجوم میں موجود دیگر افراد نے رضامندی میں شور مچانے والے آلات بجائے۔

مزید پڑھیے: جاپان: امریکی فوجی جاپانی خاتون کے قتل کے شبہے میں گرفتار

وزیر اعظم ثناء تاکائیچی نے اس قتل کو انتہائی سفاکانہ اور گھناؤنا قرار دیا ہے اور ٹوکیو نے کہا ہے کہ اس نے امریکا سے سخت احتجاج کیا ہے اور اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

جاپان دنیا میں امریکی افواج کے سب سے بڑے بیرون ملک دستے کی میزبانی کرتا ہے۔ جاپان میں مقیم 18,000 میرینز کی اکثریت اوکیناوا میں تعینات ہے جس پر امریکا دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے سنہ 1972 تک قابض رہا۔

اس موجودگی نے بارہا شور، ہوائی جہاز کے حادثات اور اہلکاروں کے رویے جیسے مسائل پر رہائشیوں میں ناراضگی کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی سی ای ایجنٹ کے ہاتھوں خاتون کا قتل، یہ ادارہ کیا ہے، اسے کتنے اختیارات حاصل ہیں؟

امریکا نے بدھ کے روز فوجی کارروائیوں میں 48 گھنٹے کا وقفہ اور شراب پر پابندی شروع کی جبکہ فوجیوں کو معیار اور نظم و ضبط پر تربیت دی جا رہی ہے۔ سروس ممبران کو غور و فکر کے دور کے لیے ایک ماہ کا کرفیو بھی دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp