ایئر پورٹ پر کیوں روکا، رکن بلوچستان اسمبلی زاہد ریکی نے احتجاجاً پاسپورٹ ایوان میں پھینک دیا

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان اسمبلی میں اکثر اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ کلامی یا دھکم پیل ہوتی رہتی ہے لیکن اس بار رکن صوبائی اسمبلی نے اپنا پاسپورٹ احتجاجاً ایوان کے فلور پر پھینک دیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن زاہد ریکی نے ایئرپورٹ پر روکے جانے اور پاسپورٹ بلاک کیے جانے کے خلاف احتجاجاً اپنا پاسپورٹ اسمبلی فلور پر پھینک دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان پارلیمنٹ کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے زاہد ریکی نے کہا کہ وہ مدینہ جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے حکام نے انہیں روک دیا اور انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کی جانب سے ان کا پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسر سے رابطے کی کوشش کی تاہم فون پر بات نہیں ہوسکی۔

زاہد ریکی نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ انہیں کس بنیاد پر دہشت گرد قرار دیا گیا اور ان کا کس کالعدم تنظیم سے تعلق ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی اداروں کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ اسمبلی کے سامنے پیش کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ واشک جاتے ہیں تو دہشت گرد پیچھے ہوتے ہیں اور کوئٹہ آتے ہیں تو خود انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، ایسی صورتحال میں ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

زاہد ریکی نے مطالبہ کیا کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کو اسمبلی میں طلب کرکے ان سے پوچھا جائے کہ ان کا نام کس بنیاد پر ای سی ایل یا پی سی ایل میں شامل کیا گیا اور اس کے کیا شواہد ہیں، احتجاجاً زاہد ریکی نے اپنا پاسپورٹ اسمبلی فلور پر پھینک دیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پاسپورٹ پھینکے جانے کے انداز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پاسپورٹ اس طرح اسمبلی فلور پر پھینکنا نامناسب عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کے بعد سے میرا پاسپورٹ بلاک ہے، افغانستان کیسے جاؤں؟ علی امین گنڈاپور

وزیراعلیٰ نے ایئرپورٹ پر رکن اسمبلی کو روکے جانے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو طلب کرلیا ہے اور معاملے پر چیمبر میں بیٹھ کر بات کی جائے گی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد ریکی نے کہا کہ ان کا نام ای سی ایل اور پی سی ایل میں محکمہ داخلہ کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اب یہ معاملہ کمیٹی کے سامنے جا چکا ہے۔ اگر ان کے خلاف کوئی شک یا الزام ہے تو متعلقہ افسر حمزہ شفقات انہیں طلب کرکے ثبوت پیش کریں۔

زاہد ریکی کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور ریاست کے ساتھ ہیں اور اگر کسی سرکاری افسر کو ان کے بارے میں کوئی شک ہے تو اس کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔

زاہد ریکی نے اسمبلی فلور پر پاسپورٹ پھینکنے کے عمل پر بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا اور وہ جذبات میں آگئے تھے۔

تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ زاہد ریکی کے معاملے میں بظاہر دو الگ پہلو سامنے آتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ایک منتخب رکن اسمبلی کو ایئرپورٹ پر روکنے اور اس کا پاسپورٹ بلاک کرنے کی قانونی و انتظامی بنیاد کیا تھی، جبکہ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی شہری یا سیاسی شخصیت کا نام ای سی ایل، پی سی ایل یا کسی دیگر نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا تو کیا اسے اس فیصلے کی وجہ اور قانونی طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں بہتری، 100 بہترین پاسپورٹس میں شامل

دوسری جانب اسمبلی فلور پر پاسپورٹ پھینکنے کا اقدام خود بھی پارلیمانی آداب کے حوالے سے سوال اٹھاتا ہے، جس پر وزیراعلیٰ نے بھی اعتراض کیا اور زاہد ریکی نے بعد میں معذرت کرلی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp