اولمپکس 2036 کی میزبانی کے خواب: بھارت غربت، بھوک اور آلودگی کے مسائل کیسے نظرانداز کرے گا؟

ہفتہ 10 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جانب سے 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کی خواہش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی کھیلوں کے انعقاد کے خواب دیکھنے سے پہلے بھارتی حکومت کو اپنے کروڑوں شہریوں کی بنیادی ضروریات، صحت، غذائیت اور انسانی وقار کے مسائل حل کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں:برکس سربراہی اجلاس: مودی سرکار نے عالمی رہنماؤں کو صرف سبزیاں کھانے پر مجبور کیا

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2025 کی انسانی ترقی رپورٹ کے مطابق بھارت 193 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح عالمی غذائی قلت اشاریے 2025 میں بھارت 123 ممالک میں 102ویں نمبر پر رہا، جبکہ ملک میں بھوک اور غذائی قلت کی صورت حال کو سنگین قرار دیا گیا ہے۔

بھارت کو فضائی آلودگی، صفائی کے ناقص انتظامات، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور خواتین کے تحفظ جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان حالات میں اولمپکس کی میزبانی کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا عالمی کھیلوں کے وقار کو ترجیح دینے سے پہلے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا زیادہ ضروری نہیں؟

عالمی مبصرین کے تنقیدی مؤقف میں بھارتی حکومت پر اقلیتوں کے حقوق محدود کرنے کے الزامات اور خواتین کے خلاف جرائم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ زور دیا گیا ہے کہ اولمپکس جیسے عالمی ایونٹ کی میزبانی کے عزائم کے ساتھ عوام کی فلاح، تحفظ، بنیادی سہولتوں اور انسانی حقوق کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔

مزید پڑھیں:مودی سرکار کا پھر کڑا امتحان شروع، ’کاکروچ‘ پارٹی نے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا استعفیٰ مانگ لیا، شدید احتجاج کا اعلان

مودی سرکار بنیادی سہولیات سے محروم عوام اور عدم تحفظ کا شکار اکثریتی مسلم کمیونٹی کی مشکلات سمیت دہشتگردی اور نقص امن سمیت دیگر گونا گوں مسائل کے ہوتے ہوئے اولمپکس کی میزبانی کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp