دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے بھارتی صنعت کار مکیش امبانی پر تنقید میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے ایسی میڈیا رپورٹس شیئر کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریلائنس کی مالی معاونت سے چلنے والی ایک کمپنی نے سوشل میڈیا پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مہم کو تقویت دی، جبکہ ریلائنس سے منسلک ایک اور کمپنی نے حکمران جماعت کو خطیر سیاسی عطیات بھی دیے۔
https://t.co/DJYynAyO0W
— Elon Musk (@elonmusk) October 10, 2026
ایلون مسک کی یہ تنقید بھارت میں ’اسٹار لنک‘ سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروسز کے آغاز میں مسلسل تاخیر کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
’الجزیرہ‘ اور ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹس شیئر
ایلون مسک نے اپنے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ’الجزیرہ‘ کی ’2022‘ کی اس رپورٹ کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جس کی سرخی تھی کہ ’کس طرح ایک ریلائنس فنڈڈ فرم فیس بک پر بی جے پی کی مہم کو فروغ دے رہی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کو بھی پیچھے چھوڑ دینے والا سال 2023 کا امیر ترین شخص کون ہے؟
انہوں نے ’انڈین ایکسپریس‘ کی ’2024‘ کی ایک آرکائیو شدہ رپورٹ بھی شامل کی جو ’کوک سپلائی‘ نامی کمپنی سے متعلق تھی۔
Dear Prime Minister Ambani,
Please accept my humble apologies for not realizing that you are the real boss of India.
Naturally, you would prefer to maintain your monopolistic exploitation of the great people of India, but would you nonetheless consider allowing Starlink to compete?
There are many areas of India, as there are in all countries, with no Internet access, which denies children the opportunity for education and for small businesses the opportunity to sell their goods to a global market. Starlink would change their lives for the better.
Thank you 🙏
— Elon Musk (@elonmusk) October 9, 2026
مذکورہ رپورٹ کے مطابق ریلائنس سے منسلک اس کمپنی نے الیکٹورل بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو ’385‘ کروڑ روپے اور شیو سینا کو ’25‘ کروڑ روپے کے عطیات دیے۔
’وزیراعظم امبانی‘ کہہ کر طنز
ایلون مسک کی یہ پوسٹ ان کے مکیش امبانی پر تند و تیز تنقید کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی۔
اس سے قبل انہوں نے مکیش امبانی کو طنزیہ انداز میں ’وزیراعظم امبانی‘ قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’اسٹار لنک‘ کو بھارتی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی اجازت دیں۔
مسک نے لکھا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ انہیں اب تک معلوم نہیں تھا کہ امبانی ہی حقیقت میں بھارت کے ’اصل سربراہ‘ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امبانی اپنی منڈی پر اجارہ داری برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
مسک نے مزید لکھا کہ ’ظاہر ہے آپ بھارت کے عظیم عوام کا اجارہ دارانہ استحصال جاری رکھنا پسند کریں گے، لیکن کیا آپ پھر بھی اسٹار لنک کو مقابلے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟‘
انہوں نے کہا کہ بھارت کے کئی علاقوں میں، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہے، انٹرنیٹ تک رسائی موجود نہیں، جس سے بچے تعلیم کے مواقع اور چھوٹے کاروبار عالمی منڈی تک رسائی سے محروم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹار لنک ایسے علاقوں کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنا سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کا ردِعمل
دوسری جانب بھارت کے وزیرِ ٹیلی کام جیوتیرادتیہ سندھیا نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں مسک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ بیان ایلون مسک کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا کہ ارب پتی امبانی اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسٹار لنک کو بھارت میں لائسنس حاصل کرنے سے روک رہے ہیں۔
Starlink is licensed in over 165 countries and has spent five years complying with every single law and requirement of the government of India, so why still no license?
Is Ambani the real boss of India?
— Elon Musk (@elonmusk) October 8, 2026
خیال رہے کہ ایلون مسک کا ادارہ ’اسپیس ایکس‘ ایک ارب سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین پر مشتمل بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں داخل ہونے کا خواہاں ہے، جس پر فی الحال مکیش امبانی کی ریلائنس جیو اور سنیل مِتل کی بھارتی ایئرٹیل کے موبائل نیٹ ورکس کا غلبہ ہے۔
’کیا امبانی ہی بھارت کے اصل حکمران ہیں؟‘
ایلون مسک نے جمعرات کو ’ایکس‘ پر ایک اور پوسٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ ’کیا امبانی ہی بھارت کے اصل حکمران ہیں؟‘۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اسٹار لنک کے پاس بھارتی ضوابط پر برسوں سے عمل درآمد کے باوجود اب تک لائسنس کیوں موجود نہیں۔
تاہم انہوں نے امبانی کے خلاف اپنے الزامات کے ثبوت میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔
امبانی کی کمپنی ریلائنس جیو کی جانب سے مسک کے بیانات پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
4 سالہ انتظار، سیاسی مخالفین بھی میدان میں
بھارت میں اسٹار لنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کے لیے 4 سال کے طویل انتظار نے کاروباری اثر و رسوخ اور ریگولیٹری تاخیر پر آن لائن ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک طرف ایلون مسک براہِ راست مکیش امبانی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب بھارتی حزبِ اختلاف بھی اس تنازع میں کود پڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی
واضح رہے کہ اسٹار لنک پہلے ہی بھارت میں آپریشنز کے لیے لائسنس حاصل کر چکا ہے، تاہم کمرشل لانچ کے لیے اسے سیکیورٹی تقاضے پورے کرنے اور اسپیکٹرم مختص کیے جانے جیسے مراحل سے گزرنا باقی ہے۔
تمام آپریٹرز ایک ہی مرحلے پر
بھارتی حکومت نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ اسٹار لنک سمیت لائسنس یافتہ تینوں سیٹلائٹ آپریٹرز تقریباً ایک ہی ریگولیٹری مرحلے پر ہیں۔
حکومت نے کسی بھی ناانصافی یا امتیازی سلوک کے الزامات کو ’بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ایلون مسک اور مکیش امبانی کے مابین یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی مارکیٹ تیزی سے مسابقتی ہوتی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر اسٹار لنک پہلے ہی کئی ممالک میں کامیابی سے فعال ہے، تاہم بھارت میں اس کے لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق معاملات تاحال التوا کا شکار ہیں، جس نے کاروباری مسابقت اور سیاسی اثر و رسوخ سے جڑے سوالات کو نئے سرے سے جنم دیا ہے۔














