خیبر پختونخوا گزشتہ 13 سال سے دہشتگردی اور بدامنی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کے دوران صوبے کے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔
مزید پڑھیں:وفاقی حکومت نے ڈاکٹر فخر عالم عرفان کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کردیا
صوبے کے عوام نے طویل عرصے تک دہشتگردی، خوف، جانی نقصان اور معاشی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کی سلامتی، بحالی اور پائیدار امن کو ہر سیاسی اور انتظامی ترجیح پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کی غرض سے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟














