نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریاں پوری کریں اور افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی اقدامات کیے جائیں۔
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاکستان کی بدلتی ہوئی انسداد دہشتگردی صورتحال پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور القاعدہ سے اس کے قریبی روابط سے متعلق رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے باعث تشویش ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، سفارتی روابط کو سفیر کی سطح پر اپ گریڈ کرنے اور علاقائی تجارت و ریلوے رابطوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، تاہم دہشتگردی کے خلاف کارروائی سے متعلق پاکستان کے بنیادی مطالبے پر تاحال مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔
مزید پڑھیں:شنگھائی کانفرنس 2027، اسحاق ڈار کی انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دہشتگردی نے پاکستان کی معیشت اور عالمی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنایا ہے۔ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد، انٹیلیجنس اداروں کے درمیان رابطوں اور وفاق و صوبوں کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے عزم اور قربانیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آئے روز احتجاجوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسی لیے صوبے میں اقدام اٹھانا پڑا، جس سے ان کے بقول وہاں کے لوگ بھی خوش ہیں۔
انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں پاکستان کی بدلتی ہوئی انسداد دہشت گردی صورتحال پر سیمینار کا انعقاد۔
سیمینار میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، سابق سفراء اور غیر ملکی مندوبین کی شرکت
@AmirSaeedAbbasi @KulAalam https://t.co/ZMtCxdGCy1— Media Talk (@mediatalk922) October 12, 2026
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں 7 اگست کو طے پانے والا پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی جارحانہ مقصد کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے اصولوں کے مطابق خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔
مزید پڑھیں:اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی کی ملاقات، پاک برطانیہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
نائب وزیراعظم نے کہا کہ تجارت، ریلوے، سڑکوں اور توانائی کے شعبوں میں علاقائی روابط کا فروغ پاکستان کی ترجیح ہے، تاہم امن کی کوششیں پاکستانی عوام کی سلامتی کی قیمت پر نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں تعاون کرے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس ہوا تھا، تاہم بدقسمتی سے دہشتگردی کے معاملے پر افغان حکام اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔













