پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے دوران مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں سیاسی محاذ پر اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا.
آج صبح ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً ایک ہزار پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔
صبح 11 بج کر 50 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 973.18 پوائنٹس یعنی 0.58 فیصد کمی کے بعد 166,116.09 پوائنٹس پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے شیئرزمیں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے اہم شیئرز بھی منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی رہی تھی، امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کی بڑھتی جھڑپوں اور خطے میں سیکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا تھا۔

اس دوران کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1,066.20 پوائنٹس یعنی 0.6 فیصد گر کر 167,089.28 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی محتاط رجحان دیکھا گیا، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو کاروبار کا آغاز محتاط انداز میں ہوا، جبکہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں اور ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین اور روس کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی کے اعلان پر بھی غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہی، کیونکہ دونوں ممالک نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار، انڈیکس میں 819 پوائنٹس کمی
روس کی ڈیزل برآمدات بڑھانے سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو بھی امریکی ری پبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹرز کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی منڈیوں میں جنوبی کوریا کے حصص میں 1.1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس تقریباً مستحکم رہا۔
امریکا میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد اور نیس ڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.4 فیصد، ڈیکس فیوچرز 0.4 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.3 فیصد بڑھ گئے۔














