ایشیا میں عمر رسیدہ آبادی کے باعث افرادی قوت میں ممکنہ کمی کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے فوائد سے خطے کے تمام ممالک کو یکساں طور پر مستفید کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود معاشی تفاوت میں مزید اضافہ نہ ہو۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ایشیا کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر مبنی ادارے کی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبادیاتی تبدیلیاں، معاشی انضمام اور ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت، خطے میں تین بڑی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی یورپی معیشت کی پیداوار بڑھا سکتی ہے مگر معاشی عدم مساوات کا خطرہ بھی ہے، آئی ایم ایف
انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق ترقی یافتہ ایشیا میں مصنوعی ذہانت معاشی ترقی کی شرح میں 0.5 سے ایک فیصد پوائنٹ تک اضافہ کر سکتی ہے۔
ان کے بقول اگر متعلقہ ممالک مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کے فوائد سے بھرپور استفادہ کریں تو یہ فوائد آبادیاتی تبدیلیوں کے دباؤ پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کتاب میں پیش کیے گئے نتائج کے مطابق چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں 2050 تک کام کرنے کی عمر کی آبادی میں تقریباً 25 فیصد کمی متوقع ہے۔
Strong investment in AI infrastructure is keeping global growth at around 3%, yielding major benefits for many Asian economies that supply the hardware, such as Thailand, International Monetary Fund Managing Director Kristalina Georgieva said today. https://t.co/1iFzryxL4W
— RTÉ Business (@RTEbusiness) October 12, 2026
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے سے افرادی قوت میں اس کمی کے اثرات کو کسی حد تک زائل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف کے شعبہ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سرینواسن نے خبردار کیا کہ پالیسی سازوں کو مصنوعی ذہانت کے فوائد اور ایشیائی ممالک کے درمیان معاشی و تکنیکی فرق بڑھنے کے خطرے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کارکنوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی یا ان کی ملازمتوں کی جگہ لے گی۔
مزید پڑھیں: پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا
ان کے مطابق ترقی یافتہ معیشتیں مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد سمیٹنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بینکاک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرینواسن نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ مہارتوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے کی جانے والی اصلاحات مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے عمل کو ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ پہلے ممکن بنا سکتی ہیں۔
دوسری جانب کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ علاقائی تجارتی معاہدوں کو مزید وسعت دینے اور غیرمحصولاتی تجارتی رکاوٹوں میں کمی سے طویل مدت میں ایشیا کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں تقریباً 1.8 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔














