بلوچستان میں کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر مشکوک گاڑی کو روکنے کے دوران ملزمان کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار پولیس کانسٹیبل شہید جبکہ ایک اور اہلکار اور دو راہگیروں سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ دلخراش واقعہ کوئٹہ کے حساس علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن تھانہ کی حدود میں پیش آیا، جہاں معمول کی ناکہ بندی اور چیکنگ کے دوران ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔
گاڑی میں سوار افراد نے قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے پولیس کے حکم کو یکسر نظر انداز کیا اور گاڑی کو روکنے کے بجائے تیزی سے بھگانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:’بلوچستان دہشتگردی کی زد میں اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی لندن میں موجیں، سوشل میڈیا پر تنقید
پولیس اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً فرار ہونے والی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا، جس پر خوفزدہ ملزمان نے فرار کی بوکھلاہٹ میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کے تعاقب کے دوران جب ملزمان جوائنٹ روڈ پر پہنچے تو انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیم پر سیدھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں فرنٹ لائن پر موجود پولیس کانسٹیبل نعمان موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ملزمان کی اس بزدلانہ کارروائی کی زد میں آ کر دیگر پولیس اہلکار کانسٹیبل جنید اور کانسٹیبل خالد بھی شدید زخمی ہو گئے،
جبکہ اس دوران جوائنٹ روڈ پر موجود 2 عام راہگیر عطا محمد اور حارث بھی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں اور پولیس کی امدادی نفری نے تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔
شدید زخمی ہونے والے اہلکار خالد کو تشویشناک حالت کے پیشِ نظر آپریشن تھیٹر میں منتقل کر دیا گیا جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کا گھیراؤ اور گرفتاری کے لیے چھاپے
اس افسوسناک واقعے کے بعد کوئٹہ پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔
ترجمان کوئٹہ پولیس کے مطابق ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، تاہم ان کی تلاش اور فوری گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:پنجگور: رکن بلوچستان اسمبلی کا بھائی مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل، وزیراعلیٰ کا نوٹس
ڈی آئی جی کوئٹہ شہباز اقبال کے دفتر سے جاری کردہ بیان اور پی آر او کی رپورٹ کے مطابق اس گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال اور پولیس فورس کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز ہمیشہ سے انتہائی حساس رہے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت میں جرائم پیشہ سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ اور پولیس پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات مستعد رہتے ہیں۔
چیک پوسٹوں اور ناکہ بندیوں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں محدود کرنا ہے، تاہم قانون شکن عناصر کی طرف سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف مزید سخت اور آہنی اقدامات کی ضرورت ہے۔














