آزاد کشمیر کی وادیوں میں سیاحت کی غرض سے جانے والے لوگوں نے بھیڑ بکریاں چرانے والے مقامی افراد، جنہیں گجر کہا جاتا ہے، ضرور دیکھے ہوں گے۔ سینکڑوں بھیڑوں کے ریوڑ کے ساتھ یہ محنتی اور سادہ لوح لوگ پورا سال کشمیر کی وادیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ رات ہوتے ہی جہاں جگہ ملے اپنے ریوڑ کے ساتھ پڑاؤ ڈال لیتے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
ان کے ساتھ اکثر کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں، جن کی بنیادی ڈیوٹی بھیڑوں کے ریوڑ کی سمت درست رکھنا ہوتی ہے۔ چونکہ وہ بچے ہوتے ہیں، اس لیے اکثر اپنی ذمہ داری سے بھٹک کر آگے پیچھے جنگل میں نکل جاتے ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ریوڑ کی رکھوالی ان کے سپرد ہے وہ کہیں بھٹک نہ جائے۔
بچوں کو جنگل میں بھٹکنے سے روکنے کے لیے ایک کردار سامنے لایا جاتا ہے، جس کا نام ‘بن بڈھا’ ہے۔ اردو میں اگر اس کا ترجمہ کریں تو یہ ‘جنگل میں رہنے والا ضعیف آدمی’ بنتا ہے، لیکن بن بڈھا کا تصور اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
بن بڈھا ایک صدیوں پرانا دیومالائی کردار ہے۔ روایات کے مطابق بن بڈھا ایک طویل قامت، مضبوط جسامت، گوریلا جیسے خدوخال اور غائب ہونے کی صلاحیت رکھنے والی ایک طاقتور مخلوق ہے۔ یہ اگر کسی انسان کے سامنے آ جائے تو اسے اٹھا کر جنگل کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔ اس کے بعد اس انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، یہ صرف انسان کے اپنے خوفناک تخیل پر منحصر ہے، کیونکہ اصل حقیقت کسی نے کبھی نہیں دیکھی۔ آج بھی اگر آپ یوٹیوب پر بن بڈھا، کشمیری ییتی یا بگ فٹ سرچ کریں تو بہت سے مقامی افراد کے انٹرویوز مل جاتے ہیں جو اس کے متعلق اپنے تجربات بیان کر رہے ہوتے ہیں۔
بن بڈھا کا کردار انسان کے بنیادی جذبے یعنی خوف کو ابھارنے کے لیے گھڑا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کم عمر نوجوانوں کے دل میں یہ ڈر قائم کرنا ہے کہ اگر وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر آگے پیچھے گئے تو بن بڈھا آ جائے گا اور انہیں لے جائے گا۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق خوف انسانی فہم کو کنٹرول کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے، خاص طور پر وہ خوف جو کسی نامعلوم وجود سے جڑا ہو۔
مملکتِ خداداد میں ایسے بن بڈھے صرف کشمیر کی وادیوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں۔ چند افراد کے گروہ سینکڑوں اور ہزاروں انسانوں کے ریوڑ کو ہانکتے ہوئے مختلف شہروں میں وقتاً فوقتاً دکھائی دیتے ہیں، اور ان سبھی گروہوں کے سرداروں نے اپنے پیروکاروں کو ایک بن بڈھے کے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ایک ایسا بن بڈھا جو صرف انسانی دماغ کی اختراع ہے۔
ایک ایسا بن بڈھا جو کسی کو بھی، کہیں بھی اٹھا کر لے جا سکتا ہے، اور جس کے خوف سے لوگ سوال اٹھانے یا ریوڑ کی درست سمت کا تعین کرنے کے بجائے، اپنے ذہنوں میں ایک محدود دائرہ بنا لیتے ہیں اور اسی دائرے کے سفر میں زندگی گزار دیتے ہیں۔
یہ گروہ کون سے ہیں، کہاں کہاں اپنے ریوڑ لیے گھوم رہے ہیں اور کس بن بڈھے کا خوف اپنے لوگوں کے دل میں ڈالے ہوئے ہیں، یہ بتانا ضروری نہیں، مگر یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی ییتی، بن بڈھا یا بگ فٹ حقیقی وجود نہیں رکھتا اور یہ صرف ایک دیومالائی داستان ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














