اے آئی کمپنیوں کے خلاف عالمی کاپی رائٹ اتحاد، 40 بڑے میڈیا ادارے شامل

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک ٹائمز، دی اکانومسٹ اور اے ایف پی سمیت عالمی میڈیا اداروں نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے خلاف صحافتی مواد کے غیر مجاز استعمال کو روکنے اور منصفانہ معاوضے کے حصول کے لیے اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔

دنیا کے 40 بڑے میڈیا ادارے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیوں کی جانب سے صحافتی مواد کے بغیر اجازت استعمال کو روکنے کے لیے قائم عالمی اتحاد کا حصہ بن گئے ہیں۔ اتحاد نے منگل کو اعلان کیا کہ اس میں نیویارک ٹائمز، دی اکانومسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی سمیت متعدد معروف ادارے شامل ہوئے ہیں۔

اس اتحاد کا نام ایس پی یو آر (اسٹینڈرڈز فار پبلشر یوزیج رائٹس) ہے، جس کا آغاز رواں سال فروری میں کیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ہی بی بی سی، فنانشل ٹائمز اور ایسوسی ایٹڈ پریس جیسے بڑے ادارے شامل تھے۔ تازہ توسیع کے بعد اتحاد میں شریک ناشرین کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کو نہ روکا گیا تو دنیا میں جنگ اور تباہی پھیل سکتی ہے، بڑی جاپانی کمپنیوں کا انتباہ

اتحاد کا مقصد میڈیا اداروں کو اپنے صحافتی مواد کے استعمال کا سراغ لگانے، کاپی رائٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے اور چیٹ جی پی ٹی و کلاڈ جیسی مصنوعی ذہانت کی خدمات تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے لیے مذاکرات میں مدد دینا ہے۔

اتحاد کے شریک بانی اور ترجمان ڈیوڈ بٹل کے مطابق ایک منصفانہ اور پائیدار معلوماتی معیشت کے قیام کی کوششوں کو تیزی سے حمایت مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری صحافت مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن فی الحال ناشرین کے پاس اپنے کام کا منصفانہ معاوضہ یقینی بنانے کا مؤثر طریقہ موجود نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو فیبریس فرائز نے کہا کہ روزانہ لاکھوں افراد معلومات حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے معاون نظاموں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں خبر رساں اداروں کے صحافیوں کی جمع کردہ اور تصدیق شدہ معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا

ان کے مطابق اصل صحافتی کام کو تسلیم کرنا، اس کا حوالہ دینا اور اس کا منصفانہ معاوضہ ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مواد کے استعمال کا سراغ لگانے کا معاملہ صرف دانشورانہ ملکیت تک محدود نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp