اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس ابتدائی منٹوں میں تقریباً 500 پوائنٹس گر گیا۔
صبح 10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 483.34 پوائنٹس یعنی 0.29 فیصد کمی کے بعد 164,293.10 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس میں 973 پوائنٹس کمی
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریز کے شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حب پاور کمپنی، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے حصص منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
https://Twitter.com/search?q=investify&src=typed_query
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی رہی تھی اور بلند سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے باعث ابتدائی بحالی کا رجحان برقرار نہ رہ سکا تھا۔
مارکیٹ پیر کی گراوٹ کا ازالہ کرنے کے لیے کوئی نیا محرک حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ گزشتہ ہفتے سے جاری مجموعی منفی رجحان بھی برقرار رہا۔
منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 347.97 پوائنٹس یعنی 0.21 فیصد کمی کے بعد 164,776.44 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

دوسری جانب عالمی منڈیوں میں بدھ کو ایشیائی حصص میں معمولی بہتری دیکھی گئی، مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں گزشتہ سیشن کی فروخت کے بعد بحالی کے آثار سامنے آئے، تاہم تیل کی بلند قیمتوں اور امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار کے انتظار نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔
جنوبی کوریا میں چپ ساز کمپنیوں سام سنگ الیکٹرونکس اور ایس کے ہائنکس کے شیئرز میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ جاپان میں کیوکسیا کے شیئرز مستحکم رہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا لندن اسٹاک ایکسچینج کا دورہ، سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
جاپان کا نکی انڈیکس 0.2 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.8 فیصد بڑھ گیا، اسی طرح جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد اوپر رہا۔
تاہم سعودی عرب پر حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھنے اور تیل کی قیمتیں بلند رہنے کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ برقرار رہا۔














