افغانستان میں طالبان رجیم نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ورلڈ سروس کی ایف ایم ریڈیو نشریات بند کر دی ہیں۔
بی بی سی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب اس کے دری، پشتو اور انگریزی زبان کے ریڈیو پروگرام ایف ایم فریکوئنسی پر نشر نہیں ہو رہے۔
ادارے کے مطابق افغانستان میں اپنی نشریاتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے طالبان سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے طالبان نے افغانستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع روک دی
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی ناراضی کی ایک وجہ بی بی سی کی اس حالیہ دستاویزی فلم میں ایک سابق طالبان گورنر کا انٹرویو بھی ہے، جو کابل پر طالبان کے قبضے کی سالگرہ کے موقع پر تیار کی گئی تھی۔
انٹرویو میں طالبان گورنر عبداللہ سرحدی نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ تاریخی بدھا کے مجسموں کی تباہی کے ذمہ دار وہ تھے۔ انہوں نے اس فیصلے پر افسوس نہ کرنے کا بھی اظہار کیا تھا۔
افغانستان میں گزشتہ 5 برس کے دوران طالبان حکومت نے متعدد ملکی اور غیر ملکی میڈیا اداروں پر پابندیاں سخت کی ہیں، تاہم بی بی سی اس عرصے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔ تازہ اقدام سے ملک میں آزاد صحافت اور اطلاعات تک رسائی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں ملک گیر مواصلاتی بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ رابطے 14 فیصد تک محدود
صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان میں شدید جبر، منظم سنسرشپ اور سیکیورٹی دباؤ نے ملک کو صحافیوں کی جبری جلاوطنی کے عالمی مراکز میں شامل کر دیا ہے، جبکہ آزادیٔ اظہار کی صورت حال اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔














