سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سرمایہ کاری سے متعلق غیرقانونی پونزی اسکیمیں اور فراڈ سمیت منظور شدہ مقاصد سے ہٹ کر کام کرنے والی رجسٹرڈ کمپنیوں کی نشاندہی کے لیے کارپوریٹ انٹیلیجنس یونٹ یعنی سی آئی یو قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نیا یونٹ شکایات موصول ہونے کا انتظار کیے بغیر مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے عوامی سطح پر دستیاب معلومات کی نگرانی کرے گا۔
ان ذرائع میں اخبارات و ذرائع ابلاغ کی خبریں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اشتہارات شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تصدیق شدہ معلومات کو مزید تحقیقات یا قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی کے لیے ایس ای سی پی کے متعلقہ شعبوں کو بھجوایا جائے گا۔
ضرورت کے مطابق یہ معلومات ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، اسٹیٹ بینک اورنیب سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی شیئر کی جا سکیں گی۔
ایس ای سی پی کے مطابق کارپوریٹ انٹیلیجنس یونٹ کے قیام سے مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی، خطرات سے پیشگی آگاہی اور فوری ضابطہ جاتی اقدامات کی صلاحیت بہتر ہوگی، جس سے سرمایہ کاروں کو ممکنہ مالی نقصانات سے بچانے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاری کے لیے بڑی سہولت، ایس ای سی پی نے متحدہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا
یونٹ مختلف عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے مشتبہ سرگرمیوں کے بار بار سامنے آنے والے طریقوں اور رجحانات کا جائزہ بھی لے گا، تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی اور متعلقہ شعبوں کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کارپوریٹ انٹیلیجنس یونٹ عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو تصدیق شدہ ضابطہ جاتی سراغ میں تبدیل کرکے کمیشن کی خطرات پر مبنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے گا۔
مزید پڑھیں: 24 ارب روپے سے زائد مالیاتی اسکینڈل، بینک اسلامی کے 5 افسران ملزم نامزد
ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ سرگرمیوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی سے بروقت مداخلت، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور سرمایہ کاروں کو نقصان بڑھنے سے پہلے تحفظ فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق کارپوریٹ انٹیلیجنس یونٹ ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 20 کے تحت چیئرمین سیکریٹریٹ کے حصے کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، یونٹ کی سربراہی ڈائریکٹر یا ایڈیشنل ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ معاونت کے لیے 2 افسران تعینات ہوں گے۔














