بھارتی پولیس نے ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے مبینہ بین الاقوامی سائبر فراڈ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے روابط کمبوڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک میں موجود مبینہ ہینڈلرز سے بتائے جاتے ہیں۔
پولیس کے مطابق، اس نیٹ ورک نے وزارتِ الیکٹرونکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 69 سالہ ریٹائرڈ سائنسدان اور سابق ڈائریکٹر پردیپ کمار داس سے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد رقم ہتھیائی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی نوسر باز نے دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا دیا
پولیس کے مطابق، 14 اگست کو ملزمان نے دہلی پولیس، انسدادِ دہشتگردی اسکواڈ اور قومی تحقیقاتی ادارے کے اہلکار بن کر سائنسدان سے رابطہ کیا اور انہیں منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں آدھار کارڈ کی معلومات کے غلط استعمال کا الزام لگا کر گرفتاری کی دھمکی دی۔
بعدازاں رقم کی تصدیق کے بہانے ان سے بینک تفصیلات حاصل کرکے 3 اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 25 لاکھ 9 ہزار روپے منتقل کروا لیے، ملزمان مبینہ طور پر انہیں مسلسل ویڈیو نگرانی میں بھی رکھتے رہے۔
A 69-year-old retired scientist and former director in the Ministry of Electronics and Information Technology was allegedly cheated of Rs 1.25 crore in a digital arrest scam, leading Delhi Police to uncover an alleged international cybercrime syndicate with links to handlers in… pic.twitter.com/KLpoalGWBO
— The Statesman (@TheStatesmanLtd) October 14, 2026
تحقیقات کے دوران دہلی پولیس کے انٹیلیجنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز (آئی ایف ایس او) یونٹ نے دوارکا کے علاقے سے 5 افراد کو گرفتار کیا، جن پر سائبر فراڈ کے لیے بینک اکاؤنٹس فراہم کرنے اور رقوم کی منتقلی میں معاونت کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق، ملزمان کے موبائل فونز سے ٹیلی گرام چیٹس اور ’ایس ایم ایس ٹولز‘ نامی ایپ ملی، جس کے ذریعے مبینہ طور پر ون ٹائم پاس ورڈز سمیت پیغامات بیرون ملک موجود سائبر جرائم پیشہ افراد تک پہنچائے جاتے تھے۔
مزید پڑھیں: محبت اور کرپٹو سرمایہ کاری کے نام پر اربوں ڈالر کے فراڈ، اقوام متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
پولیس نے اس کیس میں مزید 6 افراد کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی ہے، تفتیش کاروں کے مطابق، نیٹ ورک کے بعض ارکان مبینہ طور پر جعلی یا دوسروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس کا انتظام کرتے، رقوم کی منتقلی میں سہولت دیتے اور کمیشن وصول کرتے تھے۔
مرکزی ملزم پر بیرون ملک موجود ساتھیوں سے رابطہ رکھنے اور کرپٹو کرنسی کی صورت میں کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے۔
تحقیقات کے دوران آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں درج سائبر فراڈ کے مقدمات سے بھی روابط سامنے آئے، آندھرا پردیش میں 79 سالہ شہری بوپنا باپاراؤ سے ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر مبینہ طور پر 10 کروڑ 25 لاکھ روپے ہتھیائے گئے، جن میں سے پولیس کے مطابق 7 کروڑ 25 لاکھ روپے محفوظ یا منجمد کرا لیے گئے۔
مزید پڑھیں: ’وہ پارسل کی کال نہیں بلکہ ایک بہت بڑی مشکل کی دستک تھی’
مغربی بنگال میں سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا جھانسہ دے کر 21 لاکھ روپے لوٹنے کا معاملہ بھی اسی نیٹ ورک سے منسلک بتایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، ملزمان سے 6 موبائل فون، کرپٹو کرنسی لین دین کا ڈیٹا اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر ایسے 7 آن لائن چینلز کا بھی سراغ ملا ہے جو دوسرے افراد کے نام پر بینک اکاؤنٹس کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔













