خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے نئی کونسل، اختیارات کیا ہوں گے؟

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشتگردی سے نمٹنے اور ترقیاتی عمل تیز کرنے کے لیے ایریا رپریزنٹیٹیو اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے قیام کی تیاریاں جاری ہیں۔ مجوزہ نظام کے تحت ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مقامی آبادی کی مشاورت سے طے کی جائیں گی، جبکہ فنڈز کی فراہمی کے لیے بھی الگ طریقۂ کار وضع کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مراد سعید کی لوکیشن افغانستان کی آرہی ہے، مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار بھی وہی ہیں، رانا ثنااللہ

اے آر ڈی سی کے مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کونسل کے قیام کے 2 بنیادی مقاصد ہیں، جن میں دہشتگردی کا خاتمہ اور متعلقہ اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ان علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے باعث آج بھی متعدد مقامات پر عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

اے آر ڈی سی میں 8 ضم شدہ قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ 4 بندوبستی اضلاع لکی مروت، بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی اس نظام کا حصہ ہوں گے۔

کونسل کیسے کام کرے گی؟

محمود جان بابر کے مطابق اے آر ڈی سی کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کریں گے، جبکہ کونسل میں پولیس اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ تاہم، یہ فیصلہ ابھی ہونا ہے کہ متعلقہ اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریز مقرر کیے جائیں گے یا محکموں کے اسپیشل اور ایڈیشنل سیکریٹریز ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

ان کے مطابق ہر ضلع کی سطح پر مقامی عمائدین پر مشتمل الگ کونسل قائم کرنے کی تجویز ہے، جس میں تمام قومیتوں کو برابر نمائندگی دی جائے گی۔ یہ کونسلیں مقامی آبادی سے رابطہ کرکے ان کی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات معلوم کریں گی، جن کی بنیاد پر منصوبے ترتیب دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے لوگ اپنے مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتی دفاتر سے رجوع کرتے تھے، لیکن نئے نظام میں کونسلیں خود عوام کے پاس جائیں گی اور ان سے ترجیحی منصوبوں کی فہرست حاصل کریں گی۔

فنڈز اور امن و امان کا نظام کیسے چلے گا؟

محمود جان بابر کے مطابق اے آر ڈی سی کے لیے فنڈز کی فراہمی کا الگ نظام بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت براہِ راست متعلقہ اضلاع کو فنڈز فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے پہلے صوبائی حکومت کو ملنے والے فنڈز نئے نظام میں کونسل کو فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ ماضی میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صوبے کو ملنے والے فنڈز پولیس اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر مطلوبہ انداز میں خرچ نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق نئے نظام میں پولیس کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے پولیس اور فوج مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کام کریں گی۔

ایف سی آر قانون سے متعلق خدشات پر انہوں نے کہاکہ مجوزہ نظام سابقہ ایف سی آر جیسا نہیں ہوگا اور اس میں بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھا جائےگا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

محمود جان بابر کے مطابق اے آر ڈی سی کے قیام سے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت موجودہ انتظامی ڈھانچے کا کردار برقرار رہے گا، تاہم انتظامی پیچیدگیاں کم کرکے ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کونسل کے اختیارات، فنڈز کی تقسیم، مقامی نمائندوں کے انتخاب اور پولیس و فوج کے درمیان رابطہ کاری کا حتمی طریقۂ کار ابھی واضح ہونا باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp