دنیا کے 118 ممالک کے 61 لاکھ سے زائد افراد کے اعداد و شمار پر مبنی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں جسم کے مختلف حصوں میں زیادہ درد محسوس کرنے کی شکایت کرتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ فرق جسم کے کم از کم 11 حصوں میں سامنے آیا جن میں سر، چہرہ، گردن، کندھے، ہاتھ، کلائی، کہنیاں، پاؤں، ٹخنے، گھٹنے، سینہ، کمر، پیٹ اور کولہے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کمپیوٹر اور موبائل دیکھتے ہوئے گردن پر 27 کلو وزن کا دباؤ: درد و اکڑن سے بچنے کے لیے 5 مفید ترین ورزشیں
طبی جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، مطالعے میں شامل افراد میں کمر درد سب سے زیادہ عام تھا جس کی شرح 40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے پہلے مصنف اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی کے محقق میٹ فلنگم کا کہنا ہے کہ خواتین میں درد کی شکایات زیادہ ہونے کی حتمی وجوہات ابھی پوری طرح واضح نہیں تاہم اس کے پیچھے حیاتیاتی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق اس فرق کی ممکنہ وجوہات میں جنسی ہارمونز، مدافعتی نظام کی کارکردگی، اعصابی نظام میں درد کو محسوس کرنے کا طریقہ، ذہنی دباؤ، تولیدی صحت سے متعلق مسائل، کام کے دوران جسمانی مشقت، طبی سہولیات تک رسائی اور علامات بیان کرنے کے انداز میں فرق شامل ہیں۔
انہوں نے جانوروں پر ہونے والی بعض تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مردوں اور خواتین میں درد پیدا ہونے اور اس کی شدت بڑھنے کے حیاتیاتی طریقہ کار بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ بعض تجربات سے پتا چلا ہے کہ درد کے معاملے میں دونوں جنسوں کا مدافعتی نظام مختلف راستے اختیار کرسکتا ہے۔
میٹ فلنگم کے مطابق نئی تحقیق میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ درد کی شکایات میں خواتین اور مردوں کے درمیان فرق جسم کے تمام 11 زیرِ مطالعہ حصوں میں موجود تھا تاہم درد کی نوعیت کے لحاظ سے اس فرق کی شدت مختلف تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فرق کی کوئی ایک مشترکہ وجہ ہونا ضروری نہیں۔
خواتین میں درد کی شکایات زیادہ ہونے کی ممکنہ وجوہات
امریکا کی یونیورسٹی آف سنسناٹی میڈیکل سینٹر کے درد کے علاج کے شعبے سے وابستہ ماہر ڈاکٹر شوچیتا گارگ، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ خواتین میں درد کی زیادہ شرح کے پیچھے حیاتیاتی، ہارمونز سے متعلق اور نفسیاتی و سماجی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کمپیوٹر اور موبائل دیکھتے ہوئے گردن پر 27 کلو وزن کا دباؤ: درد و اکڑن سے بچنے کے لیے 5 مفید ترین ورزشیں
ان کے مطابق چہرے اور پیٹ کے درد، سر درد اور شدید علامات کی صورت میں خواتین اور مردوں کے درمیان فرق زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔
مائیگرین، جبڑے کے جوڑ سے متعلق درد اور اندرونی اعضا میں محسوس ہونے والا درد ان مسائل میں شامل ہیں جن میں یہ فرق زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے بعض کی علامات تولیدی عمر کے دوران زیادہ نمایاں ہوتی ہیں، جبکہ بلوغت اور جنسی ہارمونز میں تبدیلیاں بھی لڑکوں اور لڑکیوں میں درد کی شکایات کے فرق پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کہیں آپ کے بھی اردگرد کوئی سائیکوپیتھ تو نہیں؟ جانیے ایسے شخص کی اہم علامات
ڈاکٹر شوچیتا گارگ نے مدافعتی نظام کے کردار کی طرف بھی توجہ دلائی۔ بعض تحقیق میں مردوں میں اعصابی درد کا تعلق مخصوص مدافعتی خلیوں سے، جبکہ خواتین میں ٹی سیلز کی سرگرمی سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم یہ نتائج بڑی حد تک جانوروں پر کیے گئے ابتدائی تجربات پر مبنی ہیں اور ان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
خواتین میں ماہواری کے دوران شدید درد، اینڈومیٹریوسس اور شرونی کے حصے میں درد جیسے مسائل بھی مجموعی فرق میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح جسم میں گہرائی تک محسوس ہونے والے مسلسل درد اور فائبرو مائیلجیا جیسی کیفیت جس میں درد کی حساسیت بڑھ جاتی ہے، خواتین میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈپریشن، اضطراب، صدمہ خیز تجربات، دوسروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں اور بیماری کی تشخیص یا علاج میں تاخیر بھی درد کی شکایات اور ان کی شدت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
55 سال سے پہلے درد کی شکایات میں تیزی سے اضافہ
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مردوں اور خواتین دونوں میں عضلات اور ہڈیوں سے متعلق درد کی شرح میں سب سے تیز اضافہ 20 سے 55 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے جبکہ درد کی شکایات مجموعی طور پر 75 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں زیادہ دیکھی گئیں۔
محقق میٹ فلنگم نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ 55 سال سے کم عمر افراد سب سے زیادہ درد محسوس کرتے ہیں، بلکہ اس عمر کے دوران درد کی شکایت کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ زیادہ تیزی سے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمر، کولہوں اور گھٹنوں کے درد جیسی بعض کیفیات میں یہ شرح بڑھاپے تک بڑھتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق جوانی اور درمیانی عمر میں مختلف عوامل جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو بعد میں درد کی شکایات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان میں جسمانی مشقت، چوٹیں، وزن میں اضافہ، میٹابولزم سے متعلق بیماریاں، ذہنی دباؤ اور بار بار ایک ہی نوعیت کی جسمانی حرکت کرنا شامل ہیں۔
امریکا میں سیڈرز سائی نائی میڈیکل سینٹر سے وابستہ کھیلوں اور اعصاب کے ماہر ڈاکٹر ورنن ولیمز کے مطابق درمیانی عمر تک پہنچتے پہنچتے بہت سے افراد کو مختلف چوٹوں، مسلسل جسمانی دباؤ، جسمانی سرگرمی میں تبدیلی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہوچکا ہوتا ہے۔
ان عوامل سے اعصابی نظام کے درد کو محسوس کرنے کے طریقے پر اثر پڑسکتا ہے اور وقت کے ساتھ درد کے لیے حساسیت بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق 55 سال سے پہلے درد کی شکایات میں اضافے کو عمر کے کسی ایک حیاتیاتی عمل کے بجائے ان عوامل کے مجموعی اثرات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماؤں میں ذہنی صدمے کی علامات، لیکن اکثر تشخیص نہیں ہو پاتی
ڈاکٹر شوچیتا گارگ کا کہنا ہے کہ درد سے بچاؤ کے اقدامات میں 20 سے 40 سال کی عمر کے افراد کو بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ درد کے علاج کے لیے ہر فرد کی کیفیت کے مطابق حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، جس میں قابلِ علاج وجوہات کی تشخیص، جسمانی سرگرمی، نفسیاتی علاج اور خطرے کے عوامل میں کمی شامل ہوسکتی ہے۔
دنیا کے کئی خطوں میں درد سے متعلق اعداد و شمار کی کمی
تحقیق کے پہلے مصنف میٹ فلنگم کے مطابق اس مطالعے کا ایک اہم مقصد درد سے بچاؤ اور اس کی نگرانی کے لیے عمر بھر کے مختلف مراحل کو مدنظر رکھنے کی ضرورت اجاگر کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر درد کی شکایات میں تیزی سے اضافے کے ادوار کی بروقت نشاندہی ہوجائے تو ان مراحل میں احتیاطی اقدامات اور علاج زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں درد سے متعلق قابلِ اعتماد اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ تحقیق کے لیے کم انسانی ترقی کے اشاریے والے خطوں، بالخصوص افریقہ کے ذیلی صحارا علاقوں، جنوب مشرقی ایشیا اور بعض دیگر کم نمائندگی رکھنے والے خطوں سے مناسب معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
ان کے مطابق ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تحقیقی مطالعات کی کمی، محدود وسائل، تحقیق کے لیے ناکافی سہولیات اور اعداد و شمار جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور دوسروں کے لیے دستیاب بنانے میں مشکلات اس کی اہم وجوہات ہیں۔
میٹ فلنگم کا کہنا ہے کہ ان خطوں میں درد سے متعلق معیاری اعداد و شمار جمع کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ مختلف عمروں میں درد کا بوجھ کیوں بڑھتا ہے اور اس سے بچاؤ یا علاج کے کون سے طریقے زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں۔
مسلسل درد کو نظرانداز نہ کریں، ماہرین کا مشورہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل درد روزمرہ زندگی، نقل و حرکت یا کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کررہا ہو تو اسے محض برداشت کرنے یا ادویات کے ذریعے دباتے رہنے کے بجائے اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے طبی معائنہ کرانا چاہیے۔
مزید پڑھیے: شنگلز کیا بیماری ہے اور اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ ویکسین کے دل کے لیے بھی فوائد سامنے آگئے
ڈاکٹر ورنن ولیمز کے مطابق مؤثر علاج کا انحصار درد کی نوعیت اور اس کی اصل وجہ کی درست تشخیص پر ہوتا ہے۔ علاج میں جسمانی حرکت اور فعالیت بحال کرنے پر توجہ دینی چاہیے جبکہ ضرورت کے مطابق فزیوتھراپی، ورزش، رویوں میں تبدیلی، ذہنی یکسوئی کی مشقیں اور ادویات شامل کی جاسکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل درد ایک پیچیدہ مسئلہ ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ لازماً پوری زندگی برقرار رہے گا۔
ڈاکٹر شوچیتا گارگ کے مطابق باقاعدہ ورزش درد کم کرنے، جسمانی کارکردگی بہتر بنانے اور مجموعی صحت کو فروغ دینے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے مطابق ورزش کی کوئی ایک قسم سب کے لیے بہترین نہیں تاہم اسے مستقل معمول کا حصہ بنانا اہم ہے۔
انہوں نے عضلات اور ہڈیوں سے متعلق مسلسل درد کے علاج میں ورزش، ادراکی و رویہ جاتی علاج اور قبولیت و عزم پر مبنی نفسیاتی طریقۂ علاج کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق ان طریقوں سے اعصابی نظام میں درد کو محسوس کرنے کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ درد محض ذہن کا وہم ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ نیند، تمباکو نوشی، وزن اور جذباتی کیفیت جیسے عوامل بھی درد کی شدت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، اس لیے علاج میں ان پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟
ان کے مطابق علاج کا مقصد صرف درد کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مریض کی نقل و حرکت، معیارِ زندگی، روزمرہ سرگرمیوں اور کام کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔














