پارلیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے توثیق کردی

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے توثیق کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کی پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کے بعد ایوان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی کثرت رائے سے ثوثیق کر دی ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر کھول کر کالعدم ٹی ٹی پی کو ملک میں لانے والے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے اس ناسور سے اب بھی نہ نمٹا گیا تو پھر کبھی موقع نہیں ملے گا، پھر کب اس سے نمٹا جائے گا؟۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مزید  کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تفصیل کے ساتھ تمام حقائق ایوان کے سامنے رکھے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے اور اگر اس سنگین چیلنج سے اب بھی مؤثر طریقے سے نہ نمٹا گیا تو پھر کب نمٹیں گے؟۔

بارڈر کھولنے اور دہشتگردوں کی رہائی کا سوال

اسحاق ڈار نے سوال اٹھایا کہ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ کس نے بارڈر کھول کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سرحد سے اندر آنے کی اجازت دی اور کس حکومت نے اجازت دی کہ دہشتگردوں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کابل میں چائے پینے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کو سرحدوں تک آنے کے لیے چھوڑا گیا اور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے 800 ارب روپے خرچ کیے ہوتے تو آج ملک میں یہ حالات ہرگز نہ ہوتے۔

گورنر راج، ایمرجنسی اور آئینی پوزیشن

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی لگائی گئی ہے اور سینیٹ اور قومی اسمبلی نے باضابطہ طور پر اس کی منظوری دی ہے۔

مزید پڑھیں:ڈیرہ اسماعیل خان: کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر جشن، شہریوں اور تاجروں کا ڈھول کی تھاپ پر رقص

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کر حکومت نے غیر آئینی کام کیا ہے، جبکہ یہ اقدام بالکل آئین کے مطابق ہے۔ اسحاق ڈار نے دوٹوک کہا کہ ہم نے ساری زندگی آئین کی پاسداری کی ہے اس لیے ہمیں کوئی بھاشن نہ دیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان کی آمد اور وزیراعظم کا دوٹوک جواب

واقعات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے صبح سویرے فون کر کے کہا کہ میں ملاقات کے لیے آ رہا ہوں اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اس پر وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو کہا کہ دیکھیں خیبر پختونخوا میں حالات کیا چل رہے ہیں؟اور کس نے بارڈر کھول کر دہشتگردوں کو پاکستان میں بسانے کی بات کی تھی۔

وزیراعظم نے مولانا کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ بات بہت آگے نکل چکی ہے اور اس حوالے سے کابینہ کا اجلاس بھی بلا لیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی کے دورے اور پی ٹی آئی کی ذمہ داری

اسحاق ڈار نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل پر کراچی اور پنجاب کے دورے کر کے سہیل آفریدی نے ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی۔

جب کالعدم ٹی ٹی پی کے بھاگے ہوئے دہشتگرد واپس ملک میں آئے تو مسائل اور دہشتگردی پھر سے شروع ہوئی اور تحریک انصاف کے کچھ لوگ اس سب کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔

قپل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے درجنوں واقعات کے باوجود صوبائی حکومت نے اس سنگین مسئلے پر تعاون کرنے سے گریز کیا۔

 وفاقی وزیر داخلہ نے  انکشاف کیا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود صوبائی وزیر داخلہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کی مذمت تک نہیں کی جبکہ ایک طرف پاک فوج کے جوان جامِ شہادت نوش کر رہے تھے تو دوسری طرف وزیراعلیٰ ان کے خلاف تقاریر کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف پی ٹی آئی حکومت کو آن بورڈ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی

ہم نے خیبر پختونخوا حکومت سے اس معاملے پر گفتگو کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور پوری کوشش کی کہ کے پی حکومت اس قومی مسئلے پر مکمل تعاون کرے۔

اپیکس کمیٹی کے قیام میں مشکلات

رواں سال فروری میں پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ کے پی میں اس اپیکس کمیٹی کو بنوانے کے لیے ہمیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس اجلاس میں ہمارا مؤقف انتہائی واضح تھا کہ ہم سب کو مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا چاہیے اور کوئی بھی شخص اس کی پریس ریلیز نکلوا کر دیکھ سکتا ہے کہ اس میں کیا تحریر ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی مذمت سے گریز

محسن نقوی نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک نجی ٹی وی کے اینکر پرسن محمد مالک نے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان سے 3 بار سوال کیا کہ کم از کم ایک بار تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مذمت کر دی جائے، مگر صوبائی وزیر اطلاعات نے اتنی بات کہنا بھی گوارا نہیں کیا اور مذمت سے صاف انکار کر دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ بہت غلط ہوا ہے۔

گورنر راج سے گریز اور سیکیورٹی کا لائحہ عمل

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو۔

ہم نے طے کیا تھا کہ مل کر 5 اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنایا جائے گا اور 6 ماہ بعد پولیس کو آگے تعینات کر کے اپنی سیکیورٹی فورسز کو پیچھے بلایا جائے گا۔

مزید پڑھیں:کے پی میں امن و امان کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے، محسن نقوی کا پی ٹی آئی کے مطلوب رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا اعلان

وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو  دہشتگردی کے اقدامات سے کون اور کیوں روکتا تھا، یہ الگ بحث ہے۔

المیہ یہ تھا کہ ایک جانب ملک کی خاطر فوج کے جوان شہید ہو رہے تھے اور دوسری جانب اسی صوبے کے وزیراعلیٰ ان کے خلاف جلسوں میں تقاریر کر رہے تھے۔

محسن نقوی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں اس بات کی مکمل گارنٹی دیتا ہوں کہ جو باتیں انہوں نے کیں، اتنی تلخ باتیں ہم نے بھی کبھی نہیں کی تھیں۔ فوج کے ساتھ آپریشن میں جانے کے لیے  سہیل آفریدی کہتے تھے مجھے سیاسی طور پر بہت نقصان ہو گا۔

بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں چیک سمیت جو بھی پی ٹی آئی قیادت نے کہا ہم نے قبول کیا اور اس پر عملدرآمد بھی کرایا گی، بانی کی طبعیت کی خرابی کا کہا تو انہیں فوری اسپتال پہنچایا اور چیک اَپ کرایا۔ لانگ مارچ ختم کرنے کی آخری لائن بھی شیری رحمان کے کہنے پر شامل کی گئی۔

لانگ مارچ کے لیے بھی کہا کہ اگر وہ کرنا چاہتے ہو تو کریں، ہم نے پی ٹی آئی کو اس سے بھی نہیں روکا، بس ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp