یوکرین کے حملے امریکی امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، روس کا انتباہ

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے امریکا کی جنگ بندی اور امن کی کوششوں کے خلاف ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے پر عائد پابندی ختم ہوچکی ہے اور یوکرین دوبارہ حملے کرے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ کیف نے توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی جنگ بندی کی مکمل پابندی کی ہے۔ ان کے بقول روسی آئل ریفائنری پر دوبارہ حملہ کوئی نئی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

پیسکوف نے الزام عائد کیا کہ یوکرین کے حملے امریکا اور اس کے مذاکرات کاروں کی امن کوششوں سے متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن یوکرینی قیادت اور صدر زیلنسکی کی جانب سے امن کے لیے آمادگی نہ ہونے کے باعث یہ کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ زیلنسکی نے اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ یوکرین نے دو روز کے لیے روسی تیل کی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے روس پر یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔

روس نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے سات اہداف کو نشانہ بنایا۔ ادھر ایک انٹرویو میں جب زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں دھوکا دیا ہے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp