وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کے 3 ساتھی حفاظتی تحویل میں ہیں، تاہم ان کی گرفتاری سے متعلق ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ سہیل آفریدی کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تمام مقدمات پرانے ہیں اور ان سے متعلق آنے والا ہفتہ اہم ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی کے جرائم کی فہرست طویل ہے اور ان کے خلاف مقدمات بھی موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا کی ایڈوائزری کونسل کو دیکھنا ہوگا کہ ان کے خلاف کیا چارج شیٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے مقدمات کے حوالے سے دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف کوئی نیا مقدمہ نہیں بنایا گیا بلکہ تمام مقدمات پہلے سے موجود ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے، حالانکہ اس وقت خیبرپختونخوا کے زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سیاست کو سیاست تک محدود رہنا چاہیے اور قومی سلامتی کے معاملات میں سیاست کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کو خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی ایڈوائزری کونسل میں قابل افراد شامل ہیں جو صوبے کے معاملات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔











