امریکی شہر سان فرانسسکو کی سلیکون ویلی میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر شراکت داروں نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل شعبے اور سرمایہ کاری میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ ٹیکنالوجی شراکت داریوں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا آغاز سان فرانسسکو کی سلیکون ویلی سے کیا گیا ہے، جبکہ اس مرتبہ یہ کانفرنس مزید 3 امریکی شہروں میں بھی منعقد کی جا رہی ہے۔
سفیر پاکستان کے مطابق ٹیکنالوجی، جدت اور ڈیجیٹل کاروباری سرگرمیوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے آئندہ کانفرنسیں بالترتیب 19 اکتوبر کو ڈیلاس، 21 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی اور 23 اکتوبر کو شکاگو میں منعقد ہوں گی۔
پاکستان اور سلیکون ویلی کے درمیان روابط بڑھانے پر توجہ
کانفرنس میں پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے اور سلیکون ویلی کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اس موقع پر پاکستان کی سرکردہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی کارکردگی اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات پیش کیں، جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے فروغ، کاروباری مواقع اور تجربات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکا کے سامنے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے، موجودہ ٹیکنالوجی شراکت داریوں اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے ملک کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔
کانفرنس کے دوران ’پاکستان سے سلیکون ویلی تک: عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تعمیر اور توسیع‘ کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ بھی ہوا۔
مباحثے میں امریکی منڈی تک رسائی حاصل کرنے، بڑے کاروباری اداروں کو بطور صارف اپنی جانب متوجہ کرنے، عالمی سطح پر ٹیموں کی توسیع اور مصنوعی ذہانت سمیت دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، سفیر پاکستان
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیکنالوجی، جدت اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان اور امریکا کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دینے، امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق پاک امریکا ٹیک کنیکٹ جیسے اقدامات پاکستان کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، ملک کی آبادی سے متعلق سازگار عوامل سے فائدہ اٹھانے اور جدید کاروباری شراکت داریوں کے فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پاکستان اور امریکا کے درمیان پائیدار اقتصادی تعلقات کا ایک اہم ترین ستون ہے۔
سفیر پاکستان نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ فریقین کے درمیان طویل المدتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
پاکستانی نژاد امریکی ماہرین سے کردار ادا کرنے کی اپیل
رضوان سعید شیخ نے سلیکون ویلی اور امریکا کے مغربی ساحلی علاقوں میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی ٹیکنالوجی ماہرین پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو کم لاگت، معیاری خدمات اور مسابقتی صلاحیتوں کے حامل ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر متعارف کرانے اور اس کی عالمی حیثیت مضبوط بنانے کی مشترکہ کوششوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔











