کراچی، مقتول 23 سالہ زین العابدین کی لاش کا ڈراپ سین، حقیقی کزن ہی قاتل نکلا، وجہ لڑکی یا ویڈیو؟

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن سے 3 روز قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے 23 سالہ نوجوان زین العابدین کی لاش ملنے کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔

پولیس تحقیقات اور باوثوق ذرائع کے مطابق مقتول کو کسی نامعلوم اغوا کار گروپ نے نہیں بلکہ اس کے اپنے ہی ماموں زاد بھائی (کزن) فیصل نے زاتی تنازع اور بلیک میلنگ کے خدشے کے تحت گلا دبا کر قتل کیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، زین العابدین جس دن گھر سے لاپتا ہوا، اس دن وہ اپنے کزن فیصل کے ساتھ اسٹیل ٹاؤن کے علاقے جی ایم بنگلوز میں موجود تھا۔

مقتول وہاں ایک خاتون کے ساتھ موجود تھا اور اس نے اپنے کزن فیصل کو بھی وہاں بلا رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایس پی شہر بانو پر سنگین الزامات، آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا

موقع پر موجود تمام تر صورتحال کے بعد زین  العابدین نے فیصل کی ایک ویڈیو بنا لی۔ ویڈیو بنائے جانے پر فیصل شدید اشتعال میں آ گیا اور اس نے اسی وقت طیش میں آ کر زین العابدین کا گلا دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کا قتل اسی دن کر دیا گیا تھا جس دن وہ گھر سے لاپتا ہوا تھا۔

اغوا برائے تاوان کا ڈراما اور جعلسازی

قتل کے بعد واردات کو چھپانے اور  مقتول کے گھر والوں کو گمراہ کرنے کے لیے ملزم فیصل نے اغوا برائے تاوان کا سنسنی خیز ڈراما رچایا۔

ملزم فیصل مقتول کے گھر والوں کے سامنے یوں ظاہر ہوتا رہا جیسے وہ خود بھی اغوا کاروں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور وہی اغوا کاروں اور گھر والوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔

جعلی انگریزی کالز

ملزم اپنے پاس موجود سادہ بٹنوں (ٹچ پیڈ) والے موبائل فون کو کان سے لگا کر گھر والوں کے سامنے یہ تاثر دیتا کہ وہ انگریزی بولنے والے ’پڑھے لکھے اغوا کاروں‘ سے بات کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں فون پر کوئی بھی موجود نہیں تھا اور وہ صرف وقت حاصل کرنے کے لیے یہ ڈراما کر رہا تھا۔

کٹے ہوئے ہاتھ کی برآمدگی

ملزم نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے مقتول کا کٹا ہوا ہاتھ گھر پہنچایا اور دعویٰ کیا کہ اغوا کاروں نے اسے مارا پیٹا ہے اور اگر رقم نہ دی گئی تو اگلی بار مقتول کا سر ملے گا۔

مزید پڑھیں:نوجوان پنجابی گلوکارہ کو اغوا کے بعد قتل کیوں کیا گیا؟ لرزہ خیز وجوہات سامنے آگئیں

مقتول کے والد کے مطابق انہوں نے ملزم کے ذریعے 3 سے ساڑھے 3 لاکھ روپے کی رقم بھیجی، جس کے بعد ملزم نے رقم جلا دیے جانے کی ویڈیو بھیج کر مزید پیسے بٹورنے کا ڈراما رچایا۔

پولیس کی کارروائی اور ملزمان  کا اعتراف

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جب مقتول کے گھر کا دورہ کیا اور ابتدائی معلومات حاصل کیں تو اہلخانہ نے بتایا کہ تمام تر معلومات اور رابطے فیصل کے پاس ہیں۔ شک گزرنے پر پولیس نے فیصل کو موقع سے ہی تحویل میں لے لیا۔

دورانِ تفتیش فیصل کی نشان دہی  پر اس کے دوست عنصر کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق عنصر پورے ڈرامے اور سہولت کاری میں فیصل کے ساتھ شامل تھا، تاہم قتل کی مرکزی کارروائی فیصل نے خود انجام دی۔ دورانِ تفتیش دونوں ملزمان نے اپنے جرم کا مکمل اعتراف کر لیا ہے۔

مقتول کا پروفائل

23 سالہ مقتول زین العابدین سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا اور مالی طور پر مستحکم تھا۔ وہ جب بھی پاکستان آتا تو رینٹ اے کار اور گاڑیوں کے کاروبار  سے منسلک ہو جاتا تھا۔ مقتول گاڑیوں کا شوقین تھا اور اس کے پاس کلٹس گاڑی موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں:مدھیہ پردیش میں 16 سالہ لڑکے کا لرزہ خیز قتل، قاتل کی وحشیانہ حرکتیں

‎پولیس ذرائع کے مطابق ملزم فیصل اور اس کے سہولت کار عنصر کو پولیس نے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ کیس کی حساسیت کے پیشِ نظر ایس ایس پی جلد پریس کانفرنس کے ذریعے واقعے کی تمام تر تفصیلات اور ملزمان کی باضابطہ گرفتاری کا اعلان کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp