فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدد احتجاج، تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران پرتشدد مظاہرین نے شہر لیموژ کے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی، جس سے عمارت کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔

فاکس نیوز کے مطابق فرانس میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف احتجاج چوتھے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔ ہفتے کے روز لیموژ کے ٹاؤن ہال میں آگ لگنے سے عمارت کی چھت نچلی منزلوں پر آگری، جبکہ بیرونی حصے کا تقریباً 2 تہائی حصہ تباہ ہوگیا۔

مقامی حکام کے مطابق 1883ء میں تعمیر ہونے والی اس عمارت کو 1975ء میں تاریخی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ مقامی پریفیکٹ موریس باراٹ نے واقعے کو شرپسندوں کی دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے تاریخی ورثے کے لیے بڑا نقصان کہا۔

فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں 100 سے زائد ریلیاں نکالی گئیں جن میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:فرانس میں تعلیمی اصلاحات کے لیے طلبہ کے احتجاج میں گریٹا تھنبرگ بھی شامل

حکام کے مطابق پیرس سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض مقامات پر نقاب پوش افراد نے سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنوں میں داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ پولیس نے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔

صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز پر حملے کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انتشار پھیلانے والوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp