فرانس میں تعلیمی اصلاحات کے لیے طلبہ کے احتجاج میں گریٹا تھنبرگ بھی شامل

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ فرانس میں تعلیمی اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ شامل ہوگئیں، جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، گرفتاریاں اور اسکولوں کی بندش جاری ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 23 سالہ سویڈش کارکن نے منگل کو پیرس کے شمال میں واقع شہر سینٹ ڈینس کے ایک ہائی اسکول کے باہر طلبہ سے ملاقات کی، مظاہرین اساتذہ کی تعداد بڑھانے، تعلیمی اداروں کی سہولیات بہتر بنانے اور اسکول کے اوقات مختصر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لندن میں فلسطین کے حق میں احتجاج، گریٹا تھنبرگ گرفتار

گریٹا تھنبرگ نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان نوجوانوں سے متاثر ہیں جو اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، انہوں نے پولیس کے ردعمل کو انتہائی پرتشدد قرار دیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق ستمبر میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک 6,800 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرین نے آگ لگانے، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں جیسے واقعات میں حصہ لیا، تاہم متعدد مظاہرے پرامن بھی رہے ہیں۔

فرانس کی وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق منگل کو ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ 61 ہزار 500 افراد نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی، جن میں 41 ہزار 500 افراد پیرس میں موجود تھے، وزارت تعلیم کے مطابق احتجاج کے باعث 214 اسکول بند رہے۔

مظاہروں نے آئندہ سال مئی میں ہونے والے فرانسیسی صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی اہمیت بھی اختیار کرلی ہے۔

مزید پڑھیں: گریٹا تھنبرگ کے اسرائیلی حراست سے یونان پہنچنے پر پرتپاک استقبال، اسرائیلی پر نسل کشی کا الزام لگا دیا

بائیں بازو کے صدارتی امیدوار ژاں لوک میلانشوں نے نوجوان مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ سخت قرار دیا، وہ بھی منگل کو پیرس میں مظاہرین کے ساتھ شامل ہوئے۔

دوسری جانب دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما میرین لی پین نے مظاہروں کے دوران تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے والوں سے مرمت کے اخراجات وصول کیے جائیں۔

گزشتہ ہفتے شہر لینس میں ایک احتجاج کے دوران 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ اور بازو کا نچلا حصہ اس وقت شدید متاثر ہوا جب پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا دستی بم نما آلہ اٹھانے پر پھٹ گیا۔

مزید پڑھیں: نوبیل امن انعام 2026 کے لیے 287 نامزدگیاں موصول، ٹرمپ، زیلینسکی اور گریٹا تھنبرگ بھی شامل

واقعے کے بعد فرانسیسی حکام نے متعلقہ نوعیت کے اسٹن گرینیڈ کے استعمال کو معطل کر دیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے، جبکہ وزیراعظم سباسٹین لیکورنو نے وزرا کو طلبہ کے مطالبات پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، اساتذہ کی کمی ہے اور تعلیمی دن صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک طویل ہوسکتا ہے, مظاہرین ان مسائل کے حل اور تعلیمی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp