مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کم ہونے سے عالمی مالیاتی منڈیوں اور اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں ماہرین اور پالیسی سازوں نے مصنوعی ذہانت کے معاشی فوائد اور اس سے جڑے خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی
بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹف میکلم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت میں ہر جگہ موجود ہے اور اس کا استعمال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی نے مجموعی قومی پیداوار اور مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹر چِپس پر بڑھتے اخراجات نے مصنوعی ذہانت کی صنعت کو ترقی دی ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اقتصادی اثرات کم کرنے میں بھی مدد دی ہے۔ فنڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کم ہونے سے 2028 تک عالمی معیشت کی مجموعی پیداوار میں 0.4 فیصد کمی آسکتی ہے۔

فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی صنعت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوا اور سرمایہ واپس نکالا گیا تو اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے اور مالیاتی استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، توانائی کی بلند قیمتیں اور سخت مالیاتی حالات بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات اور ضابطہ کاری ضروری ہے۔










