کے پی میں ایمرجنسی کا تعلق معدنیات سے جوڑنا افسوسناک، پی ٹی آئی کی لوٹ مار کے شواہد جلد سامنے لائیں گے، طارق فضل چوہدری

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ بڑے بوجھل دل کے ساتھ کیا گیا اور یہ وفاقی حکومت کے پاس آخری آپشن تھا۔ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، کیونکہ قیام امن کے بعد ہی خیبرپختونخوا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنیات کے معاملے سے جوڑنا افسوسناک ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کتنے جوان شہید ہوئے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا محکمہ معدنیات کے 8 اہلکار 120 روز کے لیے معطل

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ ان کا اپنا ضلع بھی دہشتگردی سے متاثر ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان خود بھی خودکش حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے دہشتگردی کے خلاف تعاون درکار تھا، لیکن انہوں نے مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔

ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت دہشتگردی کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھی، جبکہ صوبے میں کرپشن کی داستانیں بھی زبان زد عام تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں تمام اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے ہیں۔ ایمرجنسی کا نفاذ انتہائی مجبوری میں آخری راستے کے طور پر کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران معدنیات نکالنے کے لیے 4917 لائسنس جاری کیے گئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لائسنس اپنے ہی لوگوں کو جاری کیے گئے اور اس حوالے سے شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔

طارق فضل چوہدری نے ایک بار پھر کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کو معدنیات سے جوڑنا افسوسناک ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے، جس کے لیے تمام معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جائیں گی اور آپریشنز کے دوران مقامی آبادی کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اضلاع کی مقامی قیادت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

وفاقی وزیر کے مطابق یہ طے کر لیا گیا ہے کہ ان 12 اضلاع سے دہشتگردی کا خاتمہ کس طرح کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی میں شامل تمام افراد تجربہ کار اور منجھے ہوئے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے لائسنسز کی تعداد میں اضافہ ہوا، خواجہ آصف

طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بعد تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں روبوٹک سرجری کی تیسری تربیتی ورکشاپ کا انعقاد، سرجنز کو جدید جراحی تکنیکوں کی عملی تربیت

مزاحمتی سیاست نے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا، قیادت 11 اکتوبر کے بعد کوئی لائحہ عمل نہ دے سکی، شوکت یوسف زئی

قومی اسمبلی کی سرکاری گاڑی کو حادثہ، راجا خرم نواز کے بیٹے کا نام سامنے آگیا، اسپیکر ایاز صادق کا نوٹس

فرانس جل رہا ہے، ذمہ دار تارکین وطن، سرحدیں مکمل بند کرنا ہوں گی، صدرڈونلڈ ٹرمپ کا بیان وائرل

39 برس کی عمر میں بھی لیونل میسی کی پھرتی برقرار، 4 منٹ میں 2 گول داغ کر ٹیم کو فتح دلوادی

ویڈیو

غریب کا ذہین بچہ بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے، دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق ختم کرنے کی کوشش ہے، شہباز شریف

20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والے جہاز میں دھماکا، ایران کا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

سکھر میں کاٹن فیکٹری کی گرد سے شہری پریشان، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات

کالم / تجزیہ

مولانا، معدنیات اور ایمر جنسی

پشاور میں چھت نہیں، حکومتی نظام گرا ہے

دو قومیں، دو نسلیں