وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے زیرِ اہتمام پاکستان میں ٹیکس نظام کو جدید اور معاشی ترقی کے لیے سازگار بنانے کے موضوع پر 2 روزہ اعلیٰ سطح ورکشاپ اسلام آباد میں شروع ہو گئی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق 20 اور 21 اکتوبر کو جاری رہنے والی ورکشاپ میں اعلیٰ حکومتی حکام، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندگان، بین الاقوامی ٹیکس ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے رہنما شریک ہیں۔
ورکشاپ کا مقصد ٹیکس نظام میں اصلاحات، محصولات میں اضافے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اہم ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔
Finance Minister Muhammad Aurangzeb delivers the opening remarks at a workshop on “Reforms for a Modern and Growth-Friendly Tax System in Pakistan.” https://t.co/TXYr0KpRVf
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) October 20, 2026
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور شعبۂ مالیاتی امور کے ڈائریکٹر روڈریگو والڈیز کے ہمراہ ورکشاپ کا افتتاح کیا۔
اجلاس میں ٹیکس پالیسی کو اقتصادی ترقی سے ہم آہنگ کرنے، وفاق اور صوبوں میں یکساں سیلز ٹیکس نظام متعارف کرانے اور انکم ٹیکس کے نظام کو سادہ اور غیر جانب دار بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ورکشاپ میں ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، قوانین پر عمل درآمد، ٹیکس دہندگان کے اعتماد، مالیاتی وفاقیت اور صوبائی محصولات سمیت مختلف امور پر 6 موضوعاتی نشستیں ہوں گی۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت ایشیا میں افرادی قوت کی کمی پوری کر سکتی ہے، آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا
اختتامی پینل مباحثے میں زیرِ بحث تجاویز کو یکجا کرنے، آئندہ کے لیے ترجیحی اقدامات طے کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کے طریقۂ کار پر غور کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ورکشاپ ایک وسیع، منصفانہ، سادہ اور شفاف ٹیکس نظام کی تشکیل کی کوششوں کا حصہ ہے، جس سے سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔











