جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مؤثر حکمرانی، عوام کو معاشی ریلیف کی فراہمی اور قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں چھوٹے صوبوں کے قیام کی بحث سے پہلے بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، آئینی حدود کی پاسداری یقینی بنائی جائے اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے حکومتی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔
مزید پڑھیں: ’اسٹیٹس کو‘ آپشن نہیں، چھوٹے صوبوں سے پہلے عوام کو اختیار دینا ضروری ہے: محمد علی درانی
انہوں نے کہاکہ چھوٹے صوبے بنانا یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانا کوئی غیر آئینی یا غیر جمہوری مطالبہ نہیں، تاہم اگر حکمرانی کا انداز، عوام کے ساتھ رویہ اور آئینی حدود کی خلاف ورزی کا رجحان برقرار رہا تو صوبوں کو چھوٹا کرنے کے باوجود مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ مؤثر حکمرانی کا تعلق محض ریاست یا صوبے کے حجم سے نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت، عوامی مسائل حل کرنے، انصاف کی فراہمی اور اختیارات کی حقیقی منتقلی سے ہے۔
پنجاب، خیبر پختونخوا کو چار، چار حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز
لیاقت بلوچ نے کہاکہ ان کی جماعت پنجاب اور خیبر پختونخوا کی انتظامی تقسیم سے متعلق تجاویز پہلے ہی پیش کر چکی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کو جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب میں تقسیم کرنے جبکہ لاہور کو الگ انتظامی حیثیت دینے کی تجویز ہے۔
’اسی طرح خیبر پختونخوا کو خیبر، ہزارہ، وسطی خیبر پختونخوا اور جنوبی خیبر پختونخوا میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی جماعت اسلامی کے منصوبے کا حصہ ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ انتظامی تقسیم پر بحث جاری رہنی چاہیے، لیکن جلد بازی یا محض سیاسی طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کے بجائے عوام میں شعور پیدا کرنا اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔
’بااختیار بلدیاتی نظام کے بغیر اختیارات کی منتقلی نامکمل ہے‘
لیاقت بلوچ نے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو اختیارات اور وسائل منتقل کیے گئے، لیکن صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو وہی اختیارات اور مالی خودمختاری دینے کے لیے تیار نہیں۔
ان کے مطابق سیاسی جماعتیں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ مختلف حکومتیں بلدیاتی انتخابات تو کروا دیتی ہیں، لیکن مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہاکہ ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام سے لے کر پرویز مشرف کے مقامی حکومتوں کے منصوبے تک مختلف ادوار میں انتظامی ڈھانچے متعارف کرائے گئے، تاہم اصل ضرورت ایسا نظام قائم کرنے کی ہے جو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پہلی ترجیح بااختیار مقامی حکومتیں ہونی چاہییں۔
’پیٹرولیم قیمتوں کے خلاف احتجاج جاری ہے‘
پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کے لیے جماعت اسلامی کے حالیہ احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے علاوہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر مختلف محصولات، لیویز اور دیگر اخراجات بھی عوام پر بوجھ بڑھاتے ہیں۔
’پیٹرول پر عائد لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت مختلف مدات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آئل ریفائنریز کے منافع اور ان کی استعداد سے متعلق ادائیگیوں پر بھی سوال اٹھایا۔‘
انہوں نے کہاکہ اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بعض اضافی بوجھ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے تو عالمی منڈی میں قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اس معاملے پر حکومتی کمیٹیوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ مالیاتی پالیسی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے متعلق وعدوں کے اندر رہتے ہوئے بھی عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش تلاش کی جا سکتی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوام پر معاشی بوجھ کے خلاف حکومت کے ساتھ مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، جبکہ دھرنوں، ملک گیر احتجاج، سڑکوں کی بندش اور ٹرین مارچ کے ذریعے بھی مطالبات سامنے لائے گئے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے کراچی سے ٹرین مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومتی کمیٹی کے ارکان احسن اقبال اور رانا ثنا اللہ کی جانب سے وزیراعظم کو مذاکراتی عمل سے آگاہ کیے جانے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا۔
ان کے مطابق وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس کے بعد ٹرین مارچ کو ملتان کے مرحلے پر مؤخر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیاکہ مارچ مؤخر کرنے کا مطلب احتجاج ختم کرنا نہیں، بلکہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے احتجاج اور مذاکرات دونوں راستے اختیار کرتی رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کا ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے اور معیشت کا پہیہ چلانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں آئی پی پیز کے معاہدوں اور ان سے معیشت پر پڑنے والے بوجھ کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی۔
ان کے مطابق جماعت اسلامی نے اس معاملے پر تفصیلی کام کرکے اپنے تحفظات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے، جس کے بعد بعض معاملات میں فوری ریلیف ملا، جبکہ دیگر اقدامات پر پیشرفت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوالات
جماعت اسلامی کے نائب امیر نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے طویل اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی مقبولیت اور شخصیت پرستی کو حکومتی کارکردگی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں شخصیت پرستی نئی بات نہیں۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور بعد ازاں دیگر مقبول سیاسی رہنماؤں کے گرد بھی اسی نوعیت کی سیاست دیکھی گئی، لیکن مقبولیت کے باوجود ملک میں جمہوری اداروں، آئینی نظام اور معیشت کو مستحکم کرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
ان کے مطابق عمران خان کو بھی مختلف سیاسی خاندانوں کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی بے اطمینانی کے باعث مقبولیت حاصل ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اپنے دورِ اقتدار میں سیاسی اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے کام کرنا چاہیے تھا، تاہم وہ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی حکومتی کارکردگی کے ذریعے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سال کے اقتدار کے باوجود بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے، جبکہ مخالف سیاسی قوتوں کے خلاف موجود عوامی نفرت نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مقبولیت اسی وقت ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جب اس کے نتیجے میں عام آدمی، کسان، مزدور اور غریب طبقے کی زندگی میں بہتری آئے۔
دہشتگردی کے خلاف سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اقدامات
لیاقت بلوچ نے خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر تمام فریقوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی مداخلت اور افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے مطابق ان حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات پر حاوی نہ ہونے دیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہونا چاہیے۔
قومی ایکشن پلان پر نظرثانی اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ
لیاقت بلوچ نے دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو دوبارہ اعتماد میں لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق ماضی میں قومی ایکشن پلان کے تحت سیکیورٹی اقدامات پر توجہ دی گئی، لیکن سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی ذمہ داریوں پر اسی انداز میں عمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ قومی ایکشن پلان کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور سیاسی بحران کے پیش نظر ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ حکومتوں اور بااختیار حلقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کے خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
’آئینی بالادستی، آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات ناگزیر ہیں‘
جماعت اسلامی کے رہنما نے کہاکہ پاکستان میں مؤثر حکمرانی کے لیے آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، جمہوری اداروں کے استحکام اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے
انہوں نے کہاکہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم سمیت مختلف اقدامات کو محض پارلیمانی اکثریت کی بنیاد پر نافذ کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے لیے عوامی قبولیت اور وسیع تر اتفاقِ رائے بھی اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ریاستی فیصلوں اور عوامی توقعات کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے تو اس کے منفی اثرات پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔









