وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے واقعے میں انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، مرکزی ملزم گرفتار ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے فیصل آباد میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں بتایا کہ وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی تھا، اس کے والد کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا جبکہ والدہ نے دوسری شادی کرلی تھی۔ وسیم سمیت 3 بہن بھائیوں کو یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کی بہن 6 ماہ قبل یتیم خانے سے فارغ ہوکر والدہ کے پاس چلی گئی جبکہ دوسرا بھائی اب بھی وہیں مقیم ہے۔ وسیم گزشتہ 6 سال سے یتیم خانے میں رہ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان :15 سالہ ملازم کو گاڑی سے کچل کر قتل کرنے والا ملزم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
ان کے مطابق دارالخدا نامی یتیم خانہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور پنجاب چیریٹیز کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہے، جہاں تقریباً 140 بچے رہتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل وسیم کو ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ اسے بجلی کا کام سکھا سکے۔
ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔خواتین اور بچے وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ پنجاب میں ایسے جرائم کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب خود اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔
چند حقائق آپکے سامنے رکھنا چاہتی ہوں
وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ اس کے والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، ماں نے جعفر سے دوسری شادی کی۔ تین بہن بھائی (دو بھائی، ایک بہن) سب کو یتیم خانہ میں داخل کرایا گیا تھا۔ بہن چھ ماہ پہلے ڈسچارج ہو کر ماں کے پاس ہے، دوسرا بھائی اب بھی اسی یتیم خانے میں ہے، جبکہ وسیم گزشتہ چھ سال سے وہاں مقیم تھا۔
یتیم خانہ کا نام دارالخدا ہے جو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور پنجاب چیریٹیز کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ یہاں تقریباً ۱۴۰ بچے رہتے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل وسیم کو ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے الیکٹریکل کام سکھایا جائے۔ ۱۹ اکتوبر کو کام کی جگہ پر اس کے ساتھ بدسلوکی ہوئی، وہ بھاگ نکلا۔ ملزم توقیر اور اس کا ساتھی امجد کار میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر تک گئے اور اسے دیکھتے ہی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا۔
مرکزی ملزم توقیر گرفتار ہے اور گاڑی قبضے میں ہے۔ دوسرے ملزم امجد کے ٹھکانوں پر فیصل آباد میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ دفعات 302، 34 پی پی سی کے تحت ایف آئی آر 990/2026 درج ہو چکی ہے اور پولیس خود مدعی ہے۔ پراسیکیوشن پولیس کے ساتھ مل کر مضبوط کیس تیار کر رہی ہے۔ ملزم کو پانچ دن کی ریمانڈ مل چکی ہے۔ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول کے خاندان سے ملاقات کی، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور مالی مدد بھی فراہم کی ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے ذریعے بچوں کے تحفظ، رحمت کارڈ کے تحت یتیموں کی مالی مدد، اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جیسے پراجیکٹ بھی مریم حکومت میں شروع کیے گئے۔ یہاں بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انصاف ضرور ہوگا۔— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) October 20, 2026
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ 19 اکتوبر کو کام کی جگہ پر بدسلوکی کے بعد وسیم وہاں سے بھاگ نکلا۔ ملزم توقیر اور اس کا ساتھی امجد گاڑی میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر تک گئے اور اسے دیکھتے ہی گاڑی تلے کچل کر ہلاک کردیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق مرکزی ملزم توقیر گرفتار ہے اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے، جبکہ دوسرے ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے فیصل آباد میں مختلف ٹھکانوں پر پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 990/2026 تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے اور پولیس خود مدعی ہے۔ ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹی مانگنے کی سزا موت، ملتان کے 15 سالہ وسیم کے ساتھ پیش آنے والا واقعے نے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا
انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن پولیس کے ساتھ مل کر مضبوط مقدمہ تیار کررہی ہے۔ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور مالی امداد بھی فراہم کی ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے میں انصاف یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ خواتین اور بچوں کا تحفظ وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں شامل ہے اور پنجاب میں ایسے جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو، یتیموں کی مالی معاونت کے لیے رحمت کارڈ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ بچوں کے تحفظ کے لیے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جیسے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔










