خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کی حفاظت کا معاملہ سنگین ہوگیا، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے بعض تعلیمی اداروں کے منظور شدہ نقشوں کے بغیر عمارتیں استعمال کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے تمام اسکول مالکان کو فوری طور پر عمارتوں کی منظوری کی جانچ پڑتال اور ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔
کے پی پی ایس آر اے کی جانب سے 20 اکتوبر کو جاری مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ عمارتوں کے منظور شدہ نقشوں اور متعلقہ اجازت ناموں کے بغیر تعلیمی ادارے چلانے سے طلبا، اساتذہ اور دیگر افراد کی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف اسکول کی رجسٹریشن عمارت کی مضبوطی اور حفاظت کا سرٹیفکیٹ نہیں، لہٰذا رجسٹرڈ اداروں کے لیے بھی عمارت کے نقشوں کی منظوری اور متعلقہ حفاظتی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
مراسلے کے مطابق کسی عمارت کو متعلقہ تکنیکی حکام غیر محفوظ قرار دیں تو تحریری حفاظتی کلیئرنس ملنے تک اسے دوبارہ کھولنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں اسکول انتظامیہ کو طلبا کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کرنا ہوں گے۔
اتھارٹی نے پیشگی منظوری کے بغیر اضافی منزل تعمیر کرنے، عمارت میں توسیع، چھت پر کیبن بنانے، عارضی کلاس روم قائم کرنے یا دیگر تعمیراتی تبدیلیوں پر بھی پابندی واضح کردی ہے۔
کے پی پی ایس آر اے نے معاملے کو انتہائی فوری قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ احکامات نظرانداز کرنے والے اداروں کے خلاف متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور ریگولیٹری ادارہ اپنے قانونی اختیارات کے تحت کارروائی کرسکتے ہیں۔
مراسلے کی نقول تمام ڈپٹی کمشنرز، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور متعلقہ ضلعی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو بھی ضروری کارروائی کے لیے ارسال کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب نجی اسکول مالکان نے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) کی جانب سے اسکولوں کی عمارتوں کے نقشوں کی منظوری سے متعلق جاری مراسلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔
نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ پہلے سے رجسٹرڈ اسکولوں پر بھی نقشوں کی منظوری کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں، کیونکہ صوبے میں بڑی تعداد میں نجی اسکول کرایے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔
اسکول مالکان کے مطابق کرایے کی عمارتوں کے نقشوں کی منظوری حاصل کرنا بنیادی طور پر جائیداد مالکان سے متعلق معاملہ ہے، تاہم بیشتر مالکان نہ تو نقشوں کی منظوری کے اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ ہوں گے اور نہ ہی اس عمل میں تعاون کریں گے، جس کے نتیجے میں تمام مالی اور انتظامی بوجھ اسکول انتظامیہ پر منتقل ہوجائے گا۔
نجی اسکول مالکان نے دیر کالونی اسکول سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے تمام تعلیمی اداروں کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے تیار ہیں جن کی عمارتوں کے منہدم ہونے کا خدشہ ہو یا جو طلبا اور اساتذہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔
مزید پڑھیں:پشاوراسکول حادثہ: گورنرخیبرپختونخوا کی امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
تاہم ان کا مؤقف ہے کہ دیر کالونی سانحے کی آڑ میں ایسا نوٹیفکیشن جاری کرنا، جس سے پورا نجی تعلیمی شعبہ شدید مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہوکر زمین بوس ہونے کے خطرے سے دوچار ہوجائے، کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
نجی اسکول مالکان نے واضح کیا ہے کہ عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں، لیکن اس ضمن میں زمینی حقائق، کرایے کی عمارتوں میں قائم اداروں کے مسائل اور جائیداد مالکان کی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
اسکول مالکان کے مطابق وہ اس معاملے پر جلد اپنا آئندہ کا لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔










