ایک ڈارک ویب شناختی چوری سروس جسے ’نیکسس‘ کہا جاتا ہے نے اس ہفتے امریکا اور کینیڈا کے 15 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ڈرائیونگ لائسنسز کے ڈیجیٹل اسکینز فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا لائسنس بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے نے ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم کردیا
سائبر سکیورٹی صحافی برائن کریبز نے سب سے پہلے یہ فہرست دریافت کی جب ایک ذریعے نے انہیں بتایا کہ ان کا اپنا ورجینیا کا لائسنس مفت نمونے کے طور پر خریداروں کو راغب کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
کریبز اور 10 رضاکاروں نے جنہوں نے نیکسس پر اپنے ریکارڈز تلاش کیے سب نے اپنی حقیقی سفری سرگرمیوں سے میل کھاتے مماثل ریکارڈز کی تصدیق کی۔ ان کی والدہ کے لائسنس کا اسکین ان کے اپنے لائسنس کے چند سیکنڈ بعد سامنے آیا اور دونوں پر ایک ہی ہرٹز کاؤنٹر کا وقت درج تھا۔
سیکیورٹی ماہر زیک ایڈورڈز نے دریافت کیا کہ ان کا ڈیٹا لاس ویگاس کے دورے کے دوران حاصل کیا گیا تھا اور انہوں نے اس مقام کی نشاندہی ’پلانیٹ 13‘ نامی ایک ڈسپنسری کے طور پر کی جہاں الیکٹرانک شناختی کارڈ اسکیننگ کی گئی تھی۔
یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح لوزیانا میں قائم کمپنی ’آئی ڈی اسکین ڈاٹ نیٹ‘ نے، جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ہرٹز، ٹارگٹ، فیڈایکس اور سیزرز انٹرٹینمنٹ جیسے کلائنٹس کے لیے ہر ماہ 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد شناختی اسکینز انجام دیتی ہے، ممکنہ طور پر ان کا کھوج لگایا۔
مزید پڑھیے: بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کا ڈیٹا لیک، حساس فائلیں ڈارک ویب پر جاری
آئی ڈی اسکین ڈاٹ نیٹ نے کریبز کو بتایا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم کسی ڈیٹا لیک کی تصدیق نہیں کی۔ سیزرز انٹرٹینمنٹ نے سختی سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کریبز کو بتایا کہ وہ فروری 2025 سے آئی ڈی اسکین کی سروس استعمال ہی نہیں کر رہی اور اس نے کبھی کمپنی کو اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔
دوسری جانب ٹارگٹ نے الگ سے ’اینگیجٹ‘ کو بتایا کہ وہ اس معاملے میں ملوث نہیں اور وہ اپنے صارفین کا ڈیٹا آئی ڈی اسکین ڈاٹ نیٹ کو کسی صورت منتقل نہیں کرتی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کمپنی کی عوامی سطح پر بتائی گئی کلائنٹس کی فہرست شاید اصل حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔
مزید پڑھیں: بیڈروم کی دیوار نے ڈارک ویب کے جال میں پھنسی لڑکی کو کیسے بچایا؟
نیکسس پر ایک کروڑ سے زائد شناختی کارڈز، 30 لاکھ سفری دستاویزات اور 5 لاکھ 80 ہزار میڈیکل کارڈز بھی فہرست میں شامل تھے جن میں سے کچھ کا تعلق ایک میریجوانا ڈسپنسری کی رکنیت سے بھی تھا۔
تحقیقی پروفیسر لیری بالڈون نے بتایا کہ اس نوعیت کا ڈیٹا لیک ان افراد کے لیے خاص طور پر مسئلہ بن سکتا ہے جو اپنی شناخت آسانی سے تبدیل نہیں کر سکتے مثلاً گھریلو تشدد کا شکار افراد یا وٹنس پروٹیکشن پروگرام میں شامل گواہ۔
یہ بھی پڑھیے: پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان
اس کے علاوہ زیک ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا لیک اس دلیل کو بھی غلط ثابت کرتا ہے جو شناختی کارڈز کی اسکیننگ کے ذریعے عمر کی تصدیق کو لازمی قرار دینے والے قوانین کے پیچھے دی جاتی رہی ہے۔














