خیبرپختونخوا سونے کی تلاش کے ٹھیکوں پر نیب کے سنگین اعتراضات، اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ہفتہ 24 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے سونے کی تلاش اور کان کنی کے لیے اربوں روپے کے معدنی بلاکس کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے نیلامی کے طریقہ کار، ٹھیکوں کی آلاٹمنٹ، کان کنی کی سرگرمیوں اور متعلقہ حکام کے کردار پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی سے 6 ماہ میں دہشتگردی ختم کردیں گے، معدنیات سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا مؤقف بے بنیاد ہے، رانا ثنااللہ

ثمر ہارون بلور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اکتوبر 2024 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق سونے کی تلاش کے چار معدنی بلاکس کے ٹھیکے مجموعی طور پر تقریباً 4 ارب 93 کروڑ روپے میں دیے گئے، تاہم ان کی نیلامی، بنیادی قیمتوں کے تعین اور بعد ازاں کان کنی کے عمل پر متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔

بیان کے مطابق دریائے سندھ کے بلاک اے کا ایک ارب 25 کروڑ روپے کا ٹھیکہ گلوبا کور پرائیویٹ لمیٹڈ، بلاک بی کا ایک ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے کا ٹھیکہ ماجکو پرائیویٹ لمیٹڈ، بلاک سی کا ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کا ٹھیکہ ہمالیہ ارتھ پرائیویٹ لمیٹڈ جبکہ بلاک ڈی کا ایک ارب 11 کروڑ 11 لاکھ روپے کا ٹھیکہ شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔

مشیر اطلاعات کے مطابق معدنی بلاکس کی بنیادی قیمتیں مقرر کرتے وقت 2015 کی جیولوجیکل اسٹڈی کو نظرانداز کرنے اور سونے کے ذخائر کا درست تخمینہ لگائے بغیر نیلامی کی قیمتیں طے کرنے پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح منرل آکشن رولز 2022 کی خلاف ورزیوں اور نیلامی کے طریقہ کار میں بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔

ثمر ہارون بلور نے اپنے بیان میں کہا کہ فروری 2022 میں شروع ہونے والی جیولوجیکل میپنگ نومبر 2023 میں روک دی گئی، جبکہ مقررہ 14 روزہ مدت میں معاہدے مکمل نہ ہونے کے باوجود آلاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے جانے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں:کے پی میں ایمرجنسی کا تعلق معدنیات سے جوڑنا افسوسناک، پی ٹی آئی کی لوٹ مار کے شواہد جلد سامنے لائیں گے، طارق فضل چوہدری

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکمِ امتناعی کے باوجود نومبر 2024 میں کان کنی کی سرگرمیاں جاری رہنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ان کے مطابق ماحولیاتی منظوری اور ضروری مائننگ پلان کے بغیر کان کنی کی سرگرمیوں، متعلقہ حکام کی ذمہ داری اور عدالتی حکم کے دوران کارروائی جاری رکھنے کی قانونی بنیاد کا تعین اہم سوالات ہیں۔

بیان میں متعلقہ علاقوں میں 1500 سے زیادہ ایکسکیویٹرز کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مشیر اطلاعات کے مطابق لیز ہولڈرز کی جانب سے ایکسکیویٹرز سے ہفتہ وار 5 سے 7 لاکھ روپے وصول کیے جانے اور غیرمجاز سب لیزنگ کے ذریعے ہفتہ وار 75 کروڑ سے ایک ارب روپے سے زیادہ آمدن کے تخمینے بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کان کنی سے حاصل ہونے والے سونے کی پیداوار اور فروخت کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ نیب کی جانب سے محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا سے متنازع ٹھیکوں کا ریکارڈ طلب کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:توانائی، معدنیات اور آئی ٹی میں سرمایہ کاری بڑھائیں، وزیراعظم کی ترک کمپنیوں کو دعوت

ثمر ہارون بلور کے مطابق ان معاملات نے معدنی ٹھیکوں کی منظوری، نگرانی، قواعد پر عمل درآمد اور مخصوص بولی دہندگان کو مبینہ فائدہ پہنچائے جانے کے الزامات کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔

دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ان نیلامیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹھیکوں کے ذریعے پہلے سے زیادہ قیمتیں حاصل کی گئیں اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp