جعلی تعمیراتی کمپنی بنانے والے سیف اللہ کو قومی احتساب بیورو (نیب ) نے پلی بارگین پر رہا کر دیا ہے، اسکینڈل میں اب تک 8 ملزمان کی پلی بارگین منظور ہو چکی ہے جبکہ 38 ملزمان ابھی بھی زیرِ حراست ہیں۔
کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 2 کروڑ روپے کے عوض آٹھویں ملزم کی پلی بارگین منظور کر لی گئی ہے۔
جعلی تعمیراتی کمپنی بنانے والے سیف اللہ نے 2 کروڑ روپے ادا کرکے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوہستان کا 40 ارب روپے کا میگا اسکینڈل، نیب نے مزید 20 کروڑ روپے برآمد کرلیے
واضح رہے کہ 37 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 2019 سے 2024 کے دوران اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کی گئی۔ اس اسکینڈل میں اب تک سیف اللہ سمیت 8 ملزمان کی پلی بارگین منظور ہو چکی ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ممتاز ڈمپر ڈرائیور نے 5 ارب 5 کروڑ روپے، جبکہ ایوب ٹھیکیدار نے 4 ارب 5 کروڑ روپے کے عوض پلی بارگین کی۔
اسی طرح حریق شاہ نے 40 کروڑ روپے، سرتاج نے 22 کروڑ روپے، جبران نے 4 کروڑ 91 لاکھ روپے اور سرن زیب نے 3 کروڑ روپے کے عوض پلی بارگین کی۔
کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں سرکاری اکاؤنٹ نمبر G10113 سے 37 ارب روپے مبینہ طور پر نکالے گئے تھے۔ اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال جدون محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) میں ہیڈ کلرک تھے۔
مزید پڑھیں:کوہستان اسکینڈل: 40 ارب روپے کرپشن کیس میں سابق بینک منیجر گرفتار
نیب کے مطابق، قیصر اقبال جدون نے 14 سے 17 ارب روپے تک کی مبینہ کرپشن کی۔
قیصر اقبال جدون کی جانب سے پلی بارگین کی درخواست پر نیب نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ نیب کے مطابق کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں اب تک 38 ملزمان زیرِ حراست ہیں۔










