پاکستان اور بحرین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس فعال کرنے پر اتفاق

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

.

.

پاکستان اور مملکتِ بحرین نے دوطرفہ سفارتی تعلقات کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللطیف بن راشد الزیانی اور ان کے وفد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس دوستانہ اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا، جو دونوں ممالک کے گہرے باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اور بحرین کا دوطرفہ تعاون و تجارت دوگنا کرنے پر اتفاق، مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس کامیابی سے مکمل

انہوں نے اعلان کیا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت متعدد ’جوائنٹ ورکنگ گروپس‘ کو فعال کر دیا گیا ہے۔

دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، فوڈ سیکیورٹی، ہنرمندی کی ترقی (اسکلز ڈیولپمنٹ)، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان روابط مزید استوار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

پاکستانی برادری اور انسانی وسائل کا فروغ

اسحاق ڈار نے بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں برادر ممالک نے پاکستانی ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے لیبر موبیلٹی، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ) میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

علاقائی صورتحال اور عالمی امور

خلیج اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کشیدگی میں کمی، تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی غذائی اور توانائی کی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ان بحری راہداریوں میں آزادانہ اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

فلسطین کے مسئلے پر پاکستان نے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم عوام تک فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ القدس الشریف کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جنوبی ایشیا اور سندھ طاس معاہدہ

اجلاس کے دوران جنوبی ایشیا کی صورتحال بشمول افغانستان اور سندھ طاس معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونا یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی پاکستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال

سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل (ابینس) کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کی یہ خطرناک کوشش پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

نائب وزیراعظم نے بحرینی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا چوتھا اجلاس مملکتِ بحرین میں منعقد ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp