پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ 4 اکتوبر سے جاری تھا اور احتجاجی قافلہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا صوابی کی جانب بڑھ رہا تھا کہ وفاقی حکومت نے اچانک صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا۔
اس فیصلے سے نہ صرف لانگ مارچ کی پیش قدمی رک گئی بلکہ تحریک انصاف کی جانب سے تیار کی گئی متبادل احتجاجی حکمت عملی بھی عملی طور پر ناکام ہوگئی۔
مزید پڑھیں: کے پی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن یہ لوگ ابھی تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے، وزیراعظم شہباز شریف
خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کررہے تھے، جبکہ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کی اجازت دینا تھا۔
احتجاجی قافلہ لکی مروت سے روانہ ہوکر کرک، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ اور مردان سے گزرتا ہوا صوابی انٹرچینج پہنچنے والا تھا، جہاں مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان متوقع تھا۔
تاہم وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور پورے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کردیا۔
اس فیصلے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جس کے دوران صوابی سمیت مختلف اضلاع میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ سہیل آفریدی سمیت کئی رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں صوابی میں متوقع بڑا اجتماع منعقد نہ ہوسکا اور لانگ مارچ کی پیش قدمی عملی طور پر رک گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے پہلے ہی رہنماؤں کو ہدایت دی تھی کہ اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرتی ہے تو احتجاج کو مختلف شہروں میں تقسیم کرکے جاری رکھا جائے گا۔
اس حکمت عملی کے تحت لاہور میں لطیف کھوسہ اور رکن پنجاب اسمبلی حافظ فرحت عباس کی قیادت میں ریلیاں نکالی جانی تھیں، تاہم پارٹی قیادت اور کارکنوں کو احتجاج کا کوئی واضح منصوبہ نہیں بتایا گیا۔
جب لطیف کھوسہ سے انفرادی طور پر رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ لاہور میں احتجاج کا کیا منصوبہ ہے اور ریلیاں کن مقامات سے نکالی جائیں گی تو انہوں نے کسی بھی احتجاج یا ریلی کی قیادت کرنے سے انکار کردیا۔ لطیف کھوسہ کا مؤقف تھا کہ لاہور میں دفعہ 144 نافذ ہے اور احتجاج کی صورت میں پولیس تمام افراد کو گرفتار کرلے گی۔
اسی طرح سابق صدر عارف علوی کو کراچی میں احتجاجی ریلیوں کی قیادت کرنا تھی، تاہم وہ بھی اس منصوبے پر عملدرآمد میں ناکام رہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ڈیرہ اسماعیل خان سے احتجاج شروع کرنا تھا، لیکن انہوں نے بھی باہر نکلنے سے انکار کردیا۔
پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے علی زین قریشی کو ملتان میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، تاہم انہوں نے بھی کسی احتجاجی سرگرمی میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق جب یہ متبادل احتجاجی منصوبہ اجتماعی طور پر پارٹی رہنماؤں کے سامنے پیش کیا گیا تو تمام رہنماؤں نے اس کی حمایت کی تھی، لیکن بعد میں جب ان سے انفرادی طور پر رابطے کیے گئے تو سب نے احتجاج کے لیے باہر نکلنے سے انکار کردیا۔ بعض رہنماؤں نے اپنے موبائل فون بند کردیے اور رابطوں سے بھی غائب ہوگئے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس وقت پنجاب میں تحریک انصاف کے تمام اہم رہنما روپوش ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی کئی روز سے منظرعام سے غائب ہیں۔
مزید پڑھیں: 13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات
پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث نقل و حرکت اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف صوبے میں کوئی بڑی احتجاجی ریلی نکالنے یا دھرنا دینے میں ناکام رہی ہے۔













